قادیانی نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ میں نے ختم نبوت کو جو قرآن وحدیث سے ثابت کیا اور اس پر اوراق کے اوراق سیاہ کر دیئے۔ وہ میری غلطی تھی؟ یقینا محمود قادیانی اس کو کہیں سے پیش نہ کر سکے گا۔حالانکہ حیات مسیح علیہ السلام کا تو صرف براہین احمدیہ میں ہی اقرار کیا تھا۔ مگر ختم نبوت پربہت سی کتابیں لکھی تھیں اورمدعی نبوت کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا رہا اورایسے شخص پر لعنت بھیجتا رہا۔
۱۵… محمود قادیانی کے خیال میں اﷲ تعالیٰ خود مرزا کو اور دوسری ساری دنیا کو تقریباً بیس سال تک گمراہی میں ڈالتا رہا اور ختم نبوت کے غلط مسئلہ کی اصلاح نہ کی اور مرزا کو ایسی مصیبت میں ڈال دیا کہ اب اس کے لئے رہائی کی کوئی صورت ہی نہیں۔
۱۶… مرزا قادیانی خود براہین احمدیہ میں لکھتا ہے کہ اگر ملہم سے غلطی ہو جائے تو رحمت خداوندی جلد تر اس کاتدارک کر لیتی ہے۔(براہین احمدیہ ص۴۰۸، ۴۴۸جدید،طبع لاہوری)’’اگر کوئی لغزش بھی ہو جاوے تو رحمت الٰہیہ جلد تر ان کا (ملہمین)تدارک کر لیتی ہے۔‘‘
اور خود مرزا قادیانی (نور الحق حصہ دوم ص ح، خزائن ج۸ص۲۷۲مطبع لاہوری)میںلکھتا ہے: ’’ان اﷲ لایترکنی علی خطاء طرفۃ عین ویعصمنی عن کل مین‘‘یعنی اﷲ تعالیٰ مجھے غلطی پرایک لمحہ تک بھی باقی نہیں رہنے دیتا اورمجھے ہر ایک غلط بات سے محفوظ رکھتا ہے۔ تو کیا اب ہم یہ کہیں کہ خداتعالیٰ کی رحمت نے جلدی تدارک نہ کیا او ر پھر قریباً بیس سال کے بعد گویا خدا نے مرزا کو متنبہ کیا تو مرزا کا لمحہ گویا بیس سال تک لمبا ہوگیا۔
محمود قادیانی کی تیسری بات
مرزا محمود نے کہاکہ میرے ابا کی ۱۹۰۱ء سے پہلے کی عبارتیں منسوخ سمجھی جائیں۔ لیکن یہ بات اس قدر لغو اورناقابل قبول ہے کہ کیا کہوں جس کے چند وجوہ ہیں۔
۱… ایک یہ کہ اس کو منسوخ کہنا غلط ہے کیونکہ منسوخ کامطلب تو یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ہاں ناسخ کے آنے تک وہی حکم تھا۔ جس کو ملہم ونبی پیش کرتا رہا۔ جیسے تحویل قبلہ وغیرہ میں پہلے تو بیت المقدس کی طرف ہی منہ کرنے کاحکم تھا اور یہ خداوندی ارشاد کے ماتحت تھا۔ پھر وہ منسوخ ہو گیا اور بیت الحرام کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو گیا۔ مگر یہاں تو اس طرح نہیں۔ کیونکہ محمود قادیانی کے خیال میں ۱۹۰۱ء سے پہلے بھی مرزا نبی ہی تھا اور ختم نبوت کا مسئلہ غلط تھا۔ مگر مرزا کو اپنی غلطی کا پتہ ۱۹۰۱ء میں چلا تو یہ تو مرز اقادیانی کی غلط فہمی تھی اور کج فہمی اورحکم خداوندی کی خلاف ورزی تھی۔ اس کو نسخ نہیں کہاکرتے۔