کے بزرگ پر زبان درازی کرے تو اس کا ذمہ دار وہ پہلا شخص ہوگا۔ ‘‘ ملاحظہ ہو (ضمیمہ ص۱۸ چشمہ معرفت کی عبارت کا فقرہ)’’اور بسا اوقات ان کی بدتہذیبی کا موجب وہی لوگ ہو جاتے ہیں جو آنحضرتﷺ کو گالیاں نکالتے ہیں۔‘‘
(پیغام صلح ص۲۷، خزائن ج۲۳ص۴۵۵)’’ایسی مہذب قوم کی کتاب اور رشیوں کو برے الفاظ سے یاد کر کے آنحضرتﷺ کو گالیاں دلوائیں۔ ایسی گالیاں تو در حقیقت انہی لوگوں کی طرف منسوب کی جائیں گی۔ جو اس حرکت کے مرتکب ہوںگے۔‘‘
(قریب منہ پیغام صلح ص۲۱، ۲۲، خزائن ج۲۳ ص۴۵۲)’’
تو گویا سب گالیاں آنحضرتﷺ کو مرزا نے ہی دلوائیں۔(عیاذاباﷲ!)
۷… اگر مرزا یہ کہے کہ میں نے ایسے یسوع کو گالیاں دی ہیں۔ جس نے خدا کا دعویٰ کیاتھا۔ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ تو خود کہتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے میرے حق میں ان الفاظ سے زیادہ توقیر کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جن سے عیسائی لوگ حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کیا کرتے ہیں۔ دیکھو
(چشمہ مسیحی ص۵۷، خزائن ج۲۰ص۳۷۵از الحکم نمبر۱۱ج۱۰ص۸،۳۱ مارچ ۱۹۰۶ئ)’’اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو خداتعالیٰ سے محبت ذاتیہ کا تعلق ہوتا ہے۔ بسا اوقات استعارہ کے رنگ میں خدا تعالیٰ ان سے ایسے کلمات ان کی نسبت کہلادیتا ہے کہ نادان لوگ ان کے ان کلموںسے خدائی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میری نسبت مسیح سے بھی زیادہ وہ کلمات فرمائے گئے ہیں۔‘‘
تو اب ہم بھی کیا مرزا کو گالیاں دیں۔ جس نے خدائی دعویٰ کیا ہے اور کیا اس پر مرزائی امت آگ بگولہ تو نہیں ہوگی؟
۸… نیز مرزا نے خود لکھا ہے کہ جس شخص کا وجود ہی نہ ہو اور وہ محض فرضی شخص ہو تو اس شخص پر نکتہ چینی نہیںہو سکتی۔ دیکھو(نور القرآن نمبر۲ص۵، خزائن ج۹ص۳۹۸)’’ہمیں تو اب تک یہی پتہ نہیں لگا کہ ویدوں کے رشی کچھ وجود بھی رکھتے تھے یا نہیں اور کہاںتھے کس شہر میں رہتے تھے اور ان کی زندگی سوانح کیا تھی اور ان کی لائف کا سلسلہ کس طور کا تھا پھر ہم کیونکر ان کی نکتہ چینی کر سکتے ہیں ہمیں اب تک ان کے وجود میں ہی شک ہے۔ تو یقینا مرزا کی نکتہ چینی اسی مسیح علیہ السلام پر ہوگی۔ جو واقع میں موجود تھے۔ کیونکہ فرضی شخصیت پر کسی کے نکتہ چینی کرنے کا مطلب ہی کیاہے؟
نیز مرزا نے لکھا ہے کہ خبیث یہودیوں نے حضرت مسیح کی پیش گویوںاور ان کے چال چلن پر اعتراضات کئے ہیں۔ تو گویا اگر مرزا نے بھی آپ کی پیش گوئیوں پر اور آپ کے اخلاق پر