آوے کہ مسلمان بھی مباحثہ کے وقت نا مناسب الفاظ دوسری قوموں کے بزرگوں کی نسبت استعمال کرتے ہیں۔ پس یاد رہے کہ وہ قرآنی تعلیم سے باہر چلے جاتے ہیں اور بسا اوقات ان کی بد تہذیبی کا موجب وہی لوگ ہو جاتے ہیں۔ جو آنحضرتﷺ کو گالیاں نکالتے ہیں … بہر حال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔‘‘ (ضمیمہ نمبر۳ ص ج، ملحقہ تریاق القلوب، خزائن ج۱۵ ص۴۹۱) ’’مسلمانوں سے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبیﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسے کہ اپنے نبیﷺ سے محبت رکھتے ہیں ایسا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘
۵… مرزا کا خود اقرار موجود ہے کہ واقعی میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں سخت گوئی سے کام لیا ہے۔ مگر گورنمنٹ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے دیکھو (ضمیمہ نمبر۳ ص ج، ملحقہ تریاق القلوب، خزائن ج۱۵ ص۴۹۱) ’’سو مجھے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا ہے، یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۸ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۲) ’’بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی، انہوں نے ناحق ہمارے نبیﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۳۸، خزائن ج۱۹ ص۱۴۹) ’’میں نیا س قصیدہ میں جو امام حسینؓ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے۔ یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔‘‘
۶… ’’حضرت مسیح علیہ السلام کو عیسائی خواہ خدا سمجھیں یا نبی، بہرحال وہ ان کے مقتداء اور پیشوا ہیں اور کسی کے پیشوا کو گالیاں دینا قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔‘‘ حسب عبارت (نسیم دعوت ص۲، اخبار الحکیم نمبر۱۸ ج۸ ص۴، کالم نمبر۱، تبلیغ رسالت ص۱۰۲، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۴، چشمہ معرفت کا ضمیمہ ص۱۸، خزائن ج۲۳ ص۳۸۹) ’’نیز اس پر آخر عیسائیوں کو غصہ آیا اور انہوں نے اس غصہ کے جواب میں آنحضرتﷺ پر طعن وتشنیع کی اور برے الفاظ استعمال کئے تو ان برے الفاظ کے استعمال وطعن وتشنیع کا ذمہ دار کون ہے؟ اور درحقیقت یہ گالیاں کس نے نکلوائیں؟ اس کا ذمہ دار خود مرزا ہے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اگر کسی کے بزرگ کو کوئی گالی دے اور وہ اس کے جواب میں اس