الذین یدعون من دون اﷲ فیسبواﷲ عدو ابغیر علم‘‘کے خلاف ہے۔
(اخبار الحکم نمبر۱۸ج۸ص۴ کالم نمبر۱،۲۱؍مئی ۱۹۰۴ئ)’’میں اپنی جماعت کو نصیحتاً کہتاہوں کہ جو کچھ اشتہار کے لکھنے والوں اوران کی جماعت نے محض دل دکھانے اور توہین کی نیت سے ہمارے نبی کریمﷺ کی نسبت مال خور اور ٹھگ اورکاذب اور نمک حرام کے الفاظ کو استعمال میں لائے ہیں اور مجھے لوگوں کا دغا بازی سے مال کھانے والا قرار دیا ہے اور یا جو خود میری جماعت کی نسبت سور اور کتے او ر مردار خود اور گدھے اور بندر وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور ملیچھ ان کا نام رکھا ہے۔ ان تمام دکھ دینے والے الفاظ پر وہ صبرکریں…اگر تم ان گالیوں اور بد زبانیوں پر صبر نہ کرو تو پھر تم میں اور دوسرے لوگوں میںکیا فرق ہوگا…تمہیں چاہئے کہ آریوں کے رشیوں اور بزرگوں کی نسبت ہرگز سختی کے الفاظ استعمال نہ کرو تاکہ وہ بھی خدائے قدوس اوراس کے رسول پاک کو گالیاںنہ دیں۔‘‘
بالکل یہی عبارت (نسیم دعوت ص۲، خزائن ج۱۹ص۳۶۴)میں بھی ہے۔ (قریب منہ براہین احمدیہ ص۱۰۲،۱۰۳، خزائن ج۱ص۹۰،۹۲ ملخص،تحفہ قیصریہ ص۶تا۸، خزائن ج۱۲ص۲۵۸تا۲۶۰ملخص)
۳… عیسائی لوگ آخر حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ وہ خواہ اس کو یسوع کے نام سے پکاریں۔ خواہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے نام سے بہرحال شخصیت تو واحد ہے۔ مثلاً اگر کوئی لاہوری مرزائی اس غلام احمد قادیانی کو گالیاں دے جو مدعی نبوت ہوا ہے یا قادیانی مرزائی اس غلام احمد کو گالیاں دے جو قادیانی منکر دعویٰ نبوت ہے یا مسلمان اس مرزا کو گالیاں دیں جس نے مسلمانوں کے عیسائیوں کے بزرگوں کو برابھلا کہا ہے جو خود کو رودر گوپال وغیرہ سمجھتا ہے تو کیا وہ اس صورت میں حق بجانب ہوں گے؟ اور کہا جائے گا کہ یہ فرض نام تھا۔
۴… اگر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ جوابی گالیاں ہیں ۔کیونکہ عیسائیوں نے آنحضرتﷺ کو گالیاں دی تھیں۔ تو اس کے جواب میں ہم لوگوں نے حضرت مسیح کو گالیاںدیں۔ (ضمیمہ نمبر۳ تریاق القلوب)تو مرزا اس کو بھی رد کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جواباً بھی گالیاں نہ دو جیسے نمبر۲ میں اخبار الحکم اور (نسیم دعوت ص۲، خزائن ج۱۹ ص۳۶۴) کا حوالہ نقل کیا جا چکا ہے۔
(تبلیغ رسالت جلد۱۰ ص۱۰۲،مجموعہ اشتہارات ج۳ص۵۴۴)’’بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بد زبانی کے مقابل پر جو آنحضرتﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی نسبت سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔‘‘
(چشمہ معرفت کا ضمیمہ ص۱۸، خزائن ج۲۳ص۳۸۹)’’کسی جماعت کے دل میں یہ بھی خیال