ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں۔ مگر یسوع نے اس کے چہرہ کی ترش روئی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ شخص بیزار ہے۔ تو رندوںکی طرح اعتراض کوباتوں میں ٹال دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کنجری بڑی اخلاص مند ہے…بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے سرمست رہتا ہے اور کنجریوں سے میل جول رکھتا ہے…(ص۴۷، خزائن ج۹ص۴۴۹)…مگر کون عقلمند اور پرہیز گار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا۔ ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے۔ گویا بغل میں ہے۔ کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پرعطر مل رہی ہے۔ کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوش نما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشا کررہی ہے… اور طرفہ یہ کہ عمرجوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد۔‘‘
(دافع البلاء ص۳، خزائن ج۱۸ص۲۱۸ حاشیہ)’’مگر یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتاتھا اور کبھی نہیں سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا سرکے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
دوسراحصہ
یہ کہ مرزا اور مرزائی لوگ ان گالیوں کے جواب یہ دیا کرتے تھے کہ یہ الزاماً گالیاں دی گئی ہیں۔ یعنی بطور تسلیم یا کبھی یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ جواباً گالیاں دی گئی ہیں۔ کیونکہ انہوں نے آنحضرتﷺ کوگالیاں دیں تو ہم نے جواباً یہ دشنام طرازی کی ہے۔
اور کبھی یہ عذر پیش کیا کرتے ہیں کہ یہ مسیح علیہ السلام کو گالیاں نہیں۔ بلکہ ایک فرضی یسوع کو گالیاں دی گئی ہیں۔ جس کا دعویٰ الوہیت کا تھا۔ (نور القرآن نمبر۲،خزائن ج۹ ص۳۷۵) ٹائیٹل پیج سے ثابت کروں گا کہ یہ سب جوابات عذر گناہ بدتر ازگناہ کامصداق ہیں۔ بوجوہ ذیل:
۱… بقول مرزا قادیانی یسوع اور مسیح دو نہیں، ایک ہی ہیں۔ بمطابق اقوال ذیل:
(دعوت حق ص۸،ملحقہ تتمہ حقیقت الوحی ، خزائن ج۲۲ص۶۲۰)’’قسم دیتا ہوں جو آپ لوگ اپنے زعم میں حضرت یسوع مسیح ابن مریم سے رکھتے ہیں۔ (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ص۵۲)’’ مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘
(ایام الصلح ص۱۱۶خزائن ج۱۴ص۳۵۳، تحفہ قیصریہ ص۲۰تا۲۲، خزائن ج۱۲ص۲۷۲تا۲۷۴)
۲… مرزا کہتا ہے کہ کسی قوم کے پیشوا کو گالیاں نہ دو۔ کیونکہ قرآنی تعلیم ’’ولا تسبو