(ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ص۲۸۹)’’ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنی بات میں غصہ آ جاتاتھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ص۲۹۱)’’آپ کا کنجروں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہے کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگادے اور زنا کاری کی کمائی کاپلید عطر اس کے سر پرملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر مسلے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۷، خزائن ج۱۱ص۲۹۱)’’آپ کاخاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘
(کشتی نوح ص۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۹ص۷۱حاشیہ)’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘
(اخبار بدر ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء ص۱۰)’’ یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی۔ مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی؟‘‘ اور مرزا شراب کو ام الخبائث کہتا ہے۔
(ملفوظات احمدیہ ص۳۴۴ ج۱)
(نور القرآن ص۴۶،۴۷، خزائن ج۹ص۴۴۸)’’مگر آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اورکب تک ان کے حال پرروویں۔ کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقع دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل بیٹھتی اور نہایت ناز و نخرہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اورحرام کاری کے عطر سے اس کے سر پرمالش کرتی اور اگر یسوع کا دل بد خیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا۔ مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے۔ وہ ایسے نفسانی موقع پرکسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سناکرتے۔ دیکھو یسوع کو ایک غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادہ سے روکنا چاہا کہ