۲… اس کو منسوخ کہنا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ قادیانی نے جو کچھ ختم نبوت کی صداقت پر لکھا تھا۔ وہ سب کا سب قرآن وحدیث اور الہامات مرزا کی روشنی میں تھا۔ جیسے کہ اس کو میں نے دوسری بات کے وجوہ میں وجہ نمبر۷ میں بیان کر چکاہوں۔
۳… کہیں مرزا قادیانی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ میری سابقہ عبارتیں اورکتابیں ختم نبوت کے متعلق سب کی سب منسوخ ہیں؟جیسے کہ اس نے مسیح موعود، حیات مسیح، متوفیک کے معنی کے متعلق صاف اقرار کیا ہے کہ وہ میری غلطی تھی۔ جسے میں وجہ نمبر۱۴ میں بالاجمال بیا ن کر چکاہوں۔
۴… نسخ کا دعویٰ کرنا بالکل جھوٹ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے خاتم النّبیین کا معنی جو پہلے کیا تھا۔ یعنی نبوت کو ختم کرنے والا وہی معنی ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں بھی کیا اور یہی معنی ۱۹۰۱ء میں بھی سمجھتارہا۔ ملاحظہ ہو عبارت مرزا قادیانی’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ملحقہ’’ حقیقت النبوت ص۲۶۸‘‘
’’غرض خاتم النّبیین کا لفظ ایک ایسی مہر ہے جو آنحضرتﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔‘‘
اسی قسم کی اوربہت سی عبارتیں ’’ایک غلطی کاازالہ‘‘ میں موجود ہیں۔ تو مرزا تو ۱۹۰۱ء میں بھی ختم نبوت کا قائل ہے اورآنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین انہی معنوں سے مانتا ہے جو تمام اہل اسلام کرتے ہیں۔ یعنی انبیاء کو ختم کرنے والا۔
۵… مرزا قادیانی تو کہتا ہے کہ میری ہر ایک بات صحیح ہے۔ لیکن اس کا بیٹا کہتا ہے کہ نہیں میرے ابا کی ۱۹۰۱ء سے پہلے کی باتیں قابل اعتبار نہیں۔ لیجئے مرزا غلام احمد کی عبارتیں اس کی ہر بات قابل حجت ہونے کے متعلق درج کرتاہوں۔ اب فیصلہ ناظرین کے سپرد ہے کہ باپ کو جھوٹا سمجھیں یا بیٹے کو۔
(حقیقت الوحی ص۲۷۸، خزائن ج۲۲ص۲۹۰)میںلکھتا ہے ’’میں بغیر خداکے بلائے بول نہیں سکتا۔‘‘
(نور الحق حصہ دوم ص ح، خزائن ج۸ص۲۷۲)’’ان اﷲ لایترکنی علی خطاء طرفۃ عین‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ مجھے لمحہ بھر بھی غلطی پرنہیں رہنے دیتا۔
(مواہب الرحمن ص۳، خزائن ج۱۹ص۲۲۰)’’کلماقلت قلت من امرہ وما فعلت شیئا من امری‘‘یعنی میں نے جو کچھ بھی کہا وہ سب کچھ خدا کے امر سے کہا ہے اور اپنی طرف سے کبھی کچھ نہیں کیا۔