ملفوظات حکیم الامت جلد 25 - یونیکوڈ |
|
ہے ـ ایضا (83) تہجد میں مسنونہ رکعات سے زیادہ پڑھنا چاہے تو نفلوں کی نیت کرے ـ ایضا (84) طالب کو صرف حالات کی اطلاع اور تعلیمات کی اتباع کافی ہے رائے نہ دینی چاہئے ـ ص 107 (85) معمولات کا بد ستور بلا ناغہ پورا ہونا استقامت فوفق الکرامت ہے ـ ایضا (86) ہر امر میں شریعت کو معیار قرار دینا چاہئے اپنے احساسات کا اعتبار نہ کرے ـ مثلا کوئی شخص شیخ کو با وضو خط لکھنے الترام کرے تو یہ جائز نہ ہو گا ـ ایضا (87) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اگر نفس حارج ہو تو چند بار کی مخالفت سے یہ ذمیمہ جاتا رہتا ہے ـ ص 110 (88) تلاوت میں متوسطہ توجہ کافی ہے مبالغہ مضر ہے ـ ص 110 (89) رویت باری تعالی کا اگر تقاضہ ہو تو یہ دعا کرے کہ اے اللہ دیدار جلد نصیب ہو جس کا ما حصل سفر آخرت و شوق لقا ہے ـ ص 111 (90) نکاح کے بارے میں یہ عمل رکھے چونکہ بر میخت بہ بند ویستہ باش ـ ایضا (91) شیخ سے کسی خاص طریقہ تعلیم کی درخواست گستاخی اور خلاف تفویض ہے ـ ص 112 (92) حرص طعام کا عملی علاج یہ ہے کہ بجائے نیت بھرنے کے پیٹ بھرنے پر اکتفاء کرے ـ ص 112 (93) مواعظ کے مطالعہ کے وقت دو خیال نافع ہیں اول یہ کہ اس میں کونسی برائیاں ایسی ہیں جس کی اصلاح کی ہم کو ضرورت ہے اور کون سی وہ خوبیاں ہیں جن کی تحصیل کی ضرورت ہے ـ ص 118 (94) ذکر کی غیبت اور نوم میں فرق ظاہر ہے مگر احکام فقیہہ مثلا نقض وضو میں دونوں کا ایک حکم ہے اور احکام سلوک میں جس طرح غثی و نوم ترقی سے مانع ہے ویسی ہی غیبت و استغراق مانع ہے ـ ص 119 (95) کشف کے لئے آنکھ بند کرنا شرط نہیں ہے مگر ان طبائع میں جن کو بغیر اس کے یکسوئی نہ ہو ـ ص 120 (96) توجہ و ہمت کا طریقہ صرف غبی لوگوں کے لئے ہے ورنہ اس میں بعض مضرتیں بھی تھیں ـ ایضا (97) حق العباد کے معاف ہونے پر بھی اس کے ادا کرنے کا عزم تبرعا افضل ہے ـ ص 121