دیکھو (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ص۵۲)میں لکھتے ہیں :’’مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘
ف… افسوس اور حیف ہے ایسے عقل والے پر جس کو اپنا پہلا لکھا ہوا یاد نہ ہو اور یا دیدہ دانستہ لوگوں کو دھوکہ دیوے۔ اگرابھی تسلی نہیں ہوئی تو دیکھو ایک اورنقل کرتا ہوں۔ (تحفہ قیصریہ ص۲۲، خزائن ج۱۲ ص۲۷۴)میں لکھتے ہیں:’’ اس خدا کے دائمی پیارے اور دائمی محبوب کی نسبت جس کا نام یسوع ہے،یہودیوں نے اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے برے سے برے مفہوم کو جائز رکھا۔ افسوس ہزار افسوس کہ یسوع مسیح جیسے خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقاد رکھیں کہ کسی وقت اس کا دل لعنت کے مفہوم کا مصداق ہوگیاتھا۔‘‘
ف… اس عبارت سے بھی بقول مرزا قادیانی ثابت ہوگیا کہ یسوع ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔ کیوں صاحب اب بھی کہو گے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور ہے اور یسوع اور ہے؟ اگر اب بھی مرزائیوں کی پوری تسلی نہیں ہوئی ہے تو ایک اور حوالہ نقل کرتا ہوں۔ خدا سے ڈر کر ذرا غور سے پڑھیں اور حق کی طرف رجوع کریں۔ ضد سے باز آویں۔ دیکھو (تحفہ قیصرہ ص۲۵، خزائن ج۱۲ ص۲۷۸)میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
’’اے مخدومہ ملکہ معظمہ یسوع مسیح کی بریت کے بارے مں یہ تینوں ذریعے شہادت دیتے ہیں۔ منقول کے ذریعے سے اس طرح تمام نوشتوں سے پایا جاتا ہے کہ یسوع دل کا غریب اور حلیم اور خدا سے پیار کرنے والا اور ہر دم خدا کے ساتھ تھا۔ پھر کیوں کر تجویز کیا جاوے کہ کسی وقت نعوذ باﷲ اس کا دل خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا کادشمن ہوگیاتھا۔ جیسا کہ لعنت کامفہوم دلالت کرتا ہے اور عقل کے ذریعہ سے اس طرح پر کہ عقل ہرگز باور نہیں کرتی کہ جو خدا کا نبی اور خدا کی توحید اور اس کی محبت سے بھرا ہو اور جس کی سرشت نور سے مخمر ہو ۔ اس میں نعوذ باﷲ بے ایمانی اور نافرمانی کی تاریکی آجائے۔ یعنی وہی تاریکی جس کو دوسرے لفظوں میں لعنت کہتے ہیں اور آسمانی نشانوں کے رو سے اس طرح پر کہ خدا آپ آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے خبر دے رہا ہے کہ مسیح علیہ السلام کی نسبت قرآن نے بیان کیا ہے وہ لعنت سے محفوظ رہا اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس کا دل لعنتی نہیں ہوا۔ یہی سچ ہے۔‘‘
ف… سبحان اﷲ! خداوند تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ جس یسوع کی نسبت نہایت بے ادبانہ اورگندے الفاظ مرزا قادیانی نے زبان سے بذریعہ تحریر نکالے تھے۔ اسی یسوع کی نسبت جناب ملکہ معظمہ کے خوش کرنے کے لئے اور نیزاس خود سے کہیں گرفت نہ کیا جاؤں لکھتے ہیں کہ