طرح نور کے مقابل پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی۔ اسی طرح شیطان ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکا اور بھاگ گیا۔ یہی ’’ان عبادی لیس لک علیہم سلطان‘‘ کے معنی ہیں۔‘‘
ف… اہل انصاف مرزا قادیانی کی اس تحریر میں غور کریں کہ اقبال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شیطانی القا کو ہرگز ہرگز پاس آنے نہیں دیا۔ شیطان ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکا اور بھاگ گیا اور ضمیمہ انجام آتھم میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام علمی اور عملی قوی میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔ شرم شرم شرم ایک زبان اور دو بیان۔
اور دیکھو (ضمیمہ انجام آتھم ص۷حاشیہ،خزائن ج۱۱ص۲۸۱)میں لکھتے ہیں :’’آپ کا خاندان نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘
ف… معاذ اﷲ معاذ اﷲ معاذ اﷲ مرزا قادیانی نے جو کچھ حضرت ’’وجیہا فی الدنیا والاخرۃ‘‘کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت بکواس بکا ہے۔ کسی مسلمان اہل ایمان کو اور سچے عیسائی کو ایسا بیہودہ کلمہ زبان پر لانا بھی اول درجہ کی بے حیائی ہے۔لیکن مرزا قادیانی کو حیاء سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ ورنہ ادب سے کنارہ کش نہ ہوتے۔
اگر مرزائیوں کی ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھتاہوں۔دیکھو مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص۹، خزائن ج۱۱ص۲۹۳) میں لکھتے ہیں:’’ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔‘‘
ف… معاذ اﷲ مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت لکھتے ہیں کہ وہ ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کا دشمن تھا اور ایک بھلا مانس آدمی بھی نہ تھا۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دوں۔ افسوس ہے ایسے عقل اور سمجھ پر اس سے زیادہ اور کیا بے ادبی ہوگی؟’’لعنت اﷲ علی الکاذبین‘‘کہو مرزائیو آمین۔
مرزائیوں کے دھوکے کا جواب
اگر کوئی مرزائی کسی مسلمان کو دھوکہ دے کر بھی کہے کہ مرزا قادیانی نے یسوع کے حق میں سخت اور بے ادبانہ الفاظ لکھے ہیںاور نہ مسیح علیہ السلام کی شان میں تو جواب یہ ہے کہ تمام انجیلوں میں ہرجگہ یسوع اورمسیح سے عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد ہیں اور خود مرزا قادیانی کا تحریری اقبال موجود ہے کہ یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہی نام ہے۔