اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالاگیا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اورذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی۔ مگر میں نے اس رسمی عقیدہ کوبراہین میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی۔ کیونکر اس کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔ پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد ومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اورمیں حضرت مسیح کی آمدثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔‘‘
اس میں صاف ظاہر ہے کہ مرزا کو خدا کی بالکل واضح اور کھلی کھلی ہر ممکن طریق سے اس کو مسیح موعود بتاتی رہی۔ لیکن مرزا اس کابارہ سال تک منکررہا۔ پس وہ بموجب (حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)کافر ہوا۔
نیز مرزا نے اپنی مسیحیت کا انکار ازالہ اوہام میں بھی کیا ہے۔ حالانکہ اسی ازالہ اوہام میں پہلے صفحات میں اپنی مسیحیت کا اقرار کر چکاتھا۔ لہٰذا وہ پکا مرتد ہوا۔ ملاحظہ ہوں ازالہ اوہام کی عبارات۔
(ازالہ اوہام ص۱۳۹،خزائن ج۳ص۱۷۱)’ہم نے جو رسالہ فتح اسلام و توضیح مرام میں اس اپنے کشفی و الہامی امر کو شائع کیا ہے کہ مسیح موعود سے مراد یہی عاجز ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پربہت افروختہ ہوتے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۸۵، خزائن ج۳ص۱۸۹)’’ ہاں تیرھویں صدی کے اختتام پرمسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔ سو اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھلادیں۔‘‘
ان دونوں عبارتوں میںمرزا اپنی مسیحیت کا اقراری ہے اور اس کے بعد کے صفحات میں اس سے انکاری ہے۔ دیکھو(ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ص۱۹۲)’’اے برادران دین و علماء شرع متین آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘
اس عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ مرزاخود کو مثیل موعود مانتا ہے نہ کہ مسیح موعود اور باقرار مرزا ہزاروں مثیل آ سکتے ہیں۔
۱۶… یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ کوئی شخص کسی نبی کی نبوت کا انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ لیکن