واحسنہا الاموضع لبنۃ فکان من دخلہا فنظر الیہا قال مااحسنہا الا موضع اللبنۃ فختم بی الانبیاء (شیخان ترمذی) ‘‘
خلاصہ مطلب یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ میرے اورانبیاء سابقین کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکان تیار کیا اوراس کی تحسین و تکمیل کرچکا۔ لیکن ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ پس جو شخص اس محل میں داخل ہوتا تو اس کو دیکھ کر کہتا کہ یہ کیسا عمدہ مکان ہے۔مگر ایک اینٹ کی کمی ہے۔ سو خداوند تعالیٰ نے میرے ساتھ انبیاء کوختم فرمادیا۔‘‘
یعنی آنحضرتﷺ نبوت کی آخری اینٹ ہیں۔ اس کو مرزا نے اپنے الفاظ میں یوں ادا کیاہے۔(سرمہ چشم آریہ ص۱۹۸،خزائن ج۲ص۲۴۶ حاشیہ)’’اور جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے۔ وہ حضرت محمد مصطفیﷺ ہیں۔‘‘
حدیث چہارم
ابوامامہ باہلی سے مرفوعاً مروی ہے:’’اناآخر الانبیاء وانتم آخر الامم ( ابن ماجہ ص۳۷)‘‘{یعنی آنحضرتﷺ سب نبیوں میں آخری نبی ہیں اورآپ کی امت تمام امتوں سے آخری امت ہے ۔}اس کو مرزا قادیانی نے یوں لکھاہے:
(تتمہ حقیقت الوحی ص۴۴، خزائن ج۲۲ص۴۷۷)’’ہمارے نبیﷺ کو سب نبیوں کے آخر میں بھیجا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۱،خزائن ج۲۲ص۱۴۵)’’اورسب کے آخر حضرت محمدﷺ کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء و خیر الرسل ہے۔‘‘
حدیث پنجم
ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:’’فنحن الاٰخرون الاولون (ابوداؤد طیالسی ص۳۵۳)‘‘ یعنی آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں۔
مرزا نے لکھا ہے:(ملفوظات احمدیہ حصہ اول ص۸۲، سلسلہ اشاعت لاہوری)’’چنانچہ یہ امر مسلمانوں کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ آپ نبی آخر الزمان تھے۔‘‘(ص۱۶۰،سلسلہ اشاعت لاہوری)
’’اگرچہ آپ سب نبیوں کے بعد آئے۔‘‘
(اتمام الحجۃ ص۲۰، خزائن ج۸ص۲۹۸، نور القرآن ص۲۲ حصہ دوم، خزائن ج۹ ص۴۱۰، تریاق القلوب ص۲۵۸، ۴۳۵، اشتہار واجب الاظہار ملحقہ تریاق القلوب حاشیہ ص۳، خزائن ج۱۵ ص۵۲۲)میںبھی آخر الزمان لکھا ہے۔