خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیاجائے۔‘‘
۳… (حمامۃ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ص۲۰۰)’’الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبینا ﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبینا فی قولہ لانبی بعدی ببیان واضح للطالبین لو جوذنا ظہور نبی بعد نبینا ﷺ لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقہا ہذاخلف کمالا یخفیٰ علی المسلمین و کیف یجئی نبی بعد رسولنا صلعم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ و ختم اﷲ بہ النّبیین‘‘
یعنی اے مخاطب تو نہیں جانتا کہ خدائے رحیم نے ہمارے نبی ﷺ کو سب انبیاء کا خاتم ٹھہرایا اور کسی کا بھی استثناء نہیں کیا اور آنحضرتﷺ نے اس کی تفسیر لانبی بعدی سے کردی۔ ایسے بیان سے جو طالبین کے لئے واضح ہو۔ اب اگر ہم آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کا ظاہر ہونا جائز رکھیں تو ہم نے وحی نبوت بند کرنے کے بعد پھر کیوں جائز کردیا اور یہ بالکل باطل ہے۔ جیسے کہ مسلمانوں پرواضح ہے آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے۔ حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی بند ہوچکی ہے اوراﷲ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کو ختم کردیا ہے۔
۴… (تحفہ بغداد ص۲۸، خزائن ج۷ص۳۴)پر ہے:’’قد قال رسول اﷲﷺ لانبی بعدی وسماہ تعالیٰ خاتم الانبیاء فمن این یظہرہ نبی بعدہ‘‘
جس کامطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء فرمایا ہے۔ پس آپ کے بعد بھلا کیسے کوئی نبی آسکتا ہے۔
۵… (ازالہ اوہام ص۸۹۸، خزائن ج۳ص۵۹۱)میںبھی حدیث کو تسلیم کیاہے۔
حدیث دوم
آنحضرتﷺ سے حضرت ابوہریرہؓ نے مرفوعاً روایت کی ہے:’’ختم بی النبیون (صحیح مسلم)‘‘یعنی آنحضرتﷺ نے تشریف لاکر انبیاء کو ختم کردیا۔ یہ بعینہ مرزا قادیانی کے لفظ بھی ہیں۔ جس کو (حمامۃ البشریٰ ص۲۰،خزائن ج۷ص۲۰۰)سے نقل کر چکاہوں۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:’’وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اﷲ بہ النّبیین‘‘ یعنی آنحضرتﷺ پر وحی بند ہو چکی ہے اور اﷲ تعالیٰ نے آپ پر انبیاء کرام کو ختم کردیاہے۔
حدیث سوم
’’مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنیٰ دارافاکملھا