کہ مولف کی نظر سے پہلا حصہ گزر چکا ہے۔بہر کیف جب وہ خود ہی ابھی اس کے جواب کے متعلق کچھ نہیں لکھتے تو میں بھی ایفاء وعدہ کا منتظر ہوں۔ جب پہلے حصہ کا جواب شائع ہوگا تو میں بھی انشاء اﷲ دیانت اورانصاف سے اسے دیکھوں گا۔
مؤلف القاء ربانی نے علامہ مصنف فیصلہ آسمانی کی دیگر تصانیف اس بات کو قوم میں پیش کیا ہے۔ کہ معجزہ اورخوارق کو نافہم وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اورعوام خواہ مخواہ اعتراض کیا کرتے ہیں۔ مگر اس تحریر اورحوالہ سے فائدہ اس مضمون کی تو بہت سی آیتیں خود قرآن مجید مذکورہ ہیں۔ منشاء ایسی تحریر کا توصرف اس قدر ہے کہ نافہموں کی بدگمانیوں سے حق مذہب باطل نہیں ٹھہر سکتا ۔یہ استدلال بے شک اس وقت صحیح ہوتا جب مولف القاء ربانی آیات قرآنیہ ،احادیث نبویہ دلائل عقلیہ حالات موجودہ اور اجتہاد آئمہ سے یہ ثابت کردیتے کہ مرزاقادیانی درحقیقت مسیح موعود مسعودتھے اورجب اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں لاسکے۔پھر فضول تحریر سے کا فائدہ۔
مؤلف القاء ربانی اس مضمون کو ذرازورداراورباوقعت بنانے کے لئے یہاں مجددصاحبؒ کے مکتوب سے چند جملہ پیش کرتے ہیں۔
معزز ناظرین! حضرت مجددصاحبؒ اس مکتوب میں مرید ون کے لئے جو ضروری آداب ہیں۔اس کو نصیحتاً بیان فرماتے ہوئے اورپیر کی اتباع کس درجہ مرید کوکرنی چاہئے اسے دکھلاتے ہوئے اورپیر کے سامنے جس آداب ولحاظ سے مرید کوبیٹھنا چاہئے اس کے لئے ایک حکایت بیان فرماتے ہیں کہ اوربادشاہی میں بادشاہ اپنے تخت پر متمکن تھا اوروزیر سامنے مودب کھڑا تھا۔ناگاہ وزیر کی نگاہ اپنے کپڑوں پر جاپڑی۔اس نے دیکھا کہ اچکن کا بند کھل گیا ہے۔ وزیر اس کی بندش اوردرستگی میں مشغول ہوگیا۔ وزیر کی اس حرکت پر بادشاہ کی نظرجاپڑی ۔نہایت غضب ناک ہوکر وزیر سے کہاکہ تو میرا وزیر اورمیرے سامنے اپنی توجہ کو مجھ سے الگ کرکے اپنے جامہ کے بند کی طرف ملتفت ہوتا ہے۔ یہ حرکت نہایت نازیبا ہے ۔اس حکایت کو بیان فرما کر مجددصاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب دنیائے دنیہ کے وسائل کے لئے ایسی باریکیاں ہیں توپھر وسائل وصولی الی اﷲ کے لئے کیا کچھ رعایت ملحوظ رکھنی چاہئے۔ یوں سونا چاہئے یوں کھانا چاہئے۔آخر تحریر فرماتے ہیں: ’’بدانکہ گفتہ اندالشیخ یحییٰ ویمیت احیاء اماتت مقام شیخی است مراد ازاحیاء احیاء روحی است نہ جسمی وہمچنین مراد ازاماتت روحی است نہ جسمی ومراد از حیات وموت فنا وبقا است کہ بمقام ولایت وکمال میرساند وشیخ مقتداباذن اﷲ سبحان متکفل این ہر