گے اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام (یعنی مسیح موعود) اورہوں گے۔ ہاں فتوحات مکیہ سے ایک اورنئی بات یہ معلوم ہوئی کہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں سارے مذاہب باطلہ نیست ونابود (یعنی تمام مذاہب باطلہ کی قوت نیست ونابود ہوجائے گی) ہوکر صرف دین خالص یعنی مذہب اسلام باقی رہ جائے گا۔
مرزاغلام احمد کے زمانہ میں تو اوربھی مذاہب باطلہ کو فروغ ہوا۔ اوردیانند سرستی کے آریہ دھرم کی روز افزوں ترقی رہی۔ اورہنود ایک سیلاب عظیم آئے دن مذہب اسلام پر آتا رہتا ہے۔ مولف القاء ربانی اپنے مسلم الثبوت شاہد حضرت مجددؒ حضرت محی الدین عربیؒ کے کلام کو خوف خدا دل میں رکھ کر ملاحظہ کریں اوربتائیں کہ کیا واقعی ان حوالہ کو جو میں نے مکتوب امام ربانی اور فتوحات مکیہ سے نہایت ہی دیانت اوراحتیاط کے ساتھ لفظ بہ لفظ مع بامحاورہ ترجمہ کے نقل کر دیا ہے ۔اس سے پیشتر ان کی نظر سے گزرا ہے یا نہیں۔ اگر انہوں نے پہلے ہی سے ان حوالوں کو دیکھا ہے تو پھر کیوں تعصب اورضد سے محض مقلدانہ اپنے علم وفضل کو الگ رکھ کر اسلام کے سرسبز وشاداب باغ سے کیوں دور جاپڑے ہیں ۔اگر انہوں نے واقعی ان حوالہ جات کو اس سے پیشتر ملاحظہ نہیں کیا تو پھر کیوں یہ عامیانہ فریب دیتے ہیں کہ مکتوب امام ربانی اورفتوحات مکیہ سے مرزا قادیانی کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔
افسوس صد ہزارافسوس میں الزام ان کو دیتا تھاقصورا پنا نکلا کے مصداق ان دومعتبر اور محترم بزرگ نے جو کچھ گواہی دی اس سے معلوم ہو گیا کہ مرزاقادیانی نہ مسیح موعود تھے نہ مہدی مسعود۔حقیقت کا انکشاف تو بفصلہ بہت ہی خوبی سے ہوگیا ۔مگر اس انکشاف کے ساتھ ہی مرزاقادیانی اپنے دعوے میں کاذب ٹھہرے ۔
جب اس تمہید کے تمہیدی مضامین کا یہ حال ہے اوراس میں اس قدر افتراء ہے تو اس کے آگے اصل مضامین کی بحث میں تو کیا کچھ نہ ہوگا۔ جی تو نہیں چاہتا ہے کہ اب اس سے آگے ایک سطر بھی تنقید انہ نظر دیکھوں مگر مختلف الخیال انسان کامختلف فہم مجھے اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ میں پوری کتاب پر ایک مختصر مفید ریمارک لکھ دوں۔ شاید کوئی بندہ خدا ایمان داری سے کام لے اوراس تحریر سے اسے صراط مستقیم نصیب ہو۔آمین یاارحم الراحمین!
مؤلف القاء ربانی تحریر کرتے ہیں ۔ابو احمد صاحب نے اپنے فیصلہ کو دو حصوں میں منقسم کیا ہے۔ پہلا حصہ اگرچہ شائع نہیں ہوا ۔پھرآگے چل کر تحریر کرتے ہیں کہ یہ میرا رسالہ ان کے دوسرے حصہ کاجواب ہے۔ یہ دونوں باتیں واقعات کے اعتبار سے بالکل ہی غلط ہیں۔ فیصلہ آسمانی کاپہلا حصہ برسوں ہوئے شائع ہوچکا اورالقاء ربانی کی بعض پوشیدہ تحریریں یہ کہہ رہی ہیں