لے لیا۔ حدیث کا کوئی جزو ذکر کردیا تحقیق کرنا پورے جملوں پر نظر ڈالنا یہ علماء کا کام۔ حافظ جی کو اس سے کیا نسبت۔ تحریر طویل ہوتی جاتی ہے۔ ورنہ ہم اس کی تفصیل بھی لکھ دیتے۔
قبر مسیح علیہ السلام
سامعین جلسہ وعظ کو یاد ہوگا ہم نے ترجمہ حدیث کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور رسول اکرمﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ قبر اور مقبرہ کا فرق معمولی اردو پڑھے ہوئے بھی جانتے ہیں۔ حافظ جی کی دھوکہ دہی کے لئے کہ اول ہمارے لفظ کو بدلا پھر یہ بیہودہ بات تراشی کہ ’’آنحضرتﷺ کی قبر کو شہید کرنے کی کون مسلمان جرأت کرے گا۔‘‘پھر قبر کی وہ نئی اصطلاح بتائی جو مرزائی ڈکشنری میں انہیں آنکھ بند کرکے نظر آئی، اور اس تحریف نے بھی ان کی کچھ حاجت روائی نہ کی بلکہ موجب رسوائی ہوئی جیسا کہ عنقریب ظاہر ہوگا۔
ان تمام لغو باتوں کے جواب میں ہم اپنے ناظرین کو مختصراً وہ فیصلہ سنا دیں جو احادیث وآثار صحابہ میں موجود۔ ظاہری معنی کو بدلنا اور من گھڑت معنی لینا آپ نے دیکھ ہی لیا۔ اصول کا مسئلہ ہے کہ یہ الحاد ہے۔ حدیث میں جو لفظ آئے ان کا کھلا مطلب آثار صحابہ میں دیکھئے۔ وہ امام بخاری جن کی تعلیق وروایت کردہ اثر پر بھی حافظ جی اور تمام مرزائی پورا اعتماد رکھتے ہیں۔ اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں۔ صاحب درمنثور اس کو ج۲، ص۲۴۵ پر بدیں الفاظ درج کرتے ہیں:’’اخرج البخاری فی تاریخہ عن عبداﷲ بن سلام قال یدفن عیسیٰ علیہ السلام مع رسول اﷲﷺ وابی بکر وعمر فیکون قبرہ رابعاً‘‘ عبداﷲ بن سلام جو یہود کے سب سے بڑے عالم تورات وانجیل کے زبردست فاضل مانے جاتے تھے اور اجل اصحاب رسول اﷲﷺ میں سے ہیں، فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام رسول اﷲﷺ وابو بکر وعمرؓ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے پس ان کی قبر اس مقبرہ میں چوتھی قبر ہوگی۔
اس مضمون کی ایک مرفوع حدیث علامہ ابن جوزی محدث نے ’’کتاب الوفائ‘‘ میں نقل کی ہے جس میں حضور سید عالمﷺ فرماتے ہیں:’’ینزل عیسیٰ بن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمساً واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (مشکوٰۃ ص۴۸۰)‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے پھر شادی کریں گے۔ پھر ان