لئے لکھے ہیں۔ اورپھر تمثیل کے طور پر میں نے خدا ئے تعالیٰ کو دیکھااور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ اس پر دستخط کر دیں۔ مطلب یہ تھا کہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے۔ ہوجائیں۔ سو خدائے تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیئے اورقلم کے نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا۔اورمعاً چھاٹنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اورچونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے اس لئے مجھے جبکہ ان قطروں سے جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے گرے ۔اطلاع ہوئی ۔ساتھ ہی میں نے بچشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو میاںعبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھاکہ اتنے میں اس نے بھی وہ تربتر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لئے اورکوئی ایسی چیز ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اوریہ وہی سرخی تھی جو خدائے تعالیٰ نے اپنے قلم سے جھاڑی تھی۔اب تک بعض کپڑے میان عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی اورمیاں عبداللہ زندہ موجود ہیں۔ وہ اس کیفیت کو حلفاً بیان کر سکتے ہیں کہ کیونکر خارق عادت اوراعجازی طورپر امرتھا۔‘‘ (تریاق القلوب ص۳۳،خزائن ج۱۵ص۱۹۷)
ناظرین! یہ ہے مرزائیوں کے جدید نبی کا معجزہ اوران کے خدا کے مضحکہ خیز کرشمہ۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی بارگاہ بھی کسی کلکٹر وغیرہ کا اجلاس تھا جس میں پیشکار بن کر مرزاقادیانی درخواست ساتھ لیکر منظوری کے دستخط کرانے کو تشریف لے گئے اورحاکم بھی معاذ اﷲ!ایسے تمیزدار کہ قلم جھاڑ کر سرخی سے اس کے کپڑے تربتر کر دیئے پھرپیش کار پر جلدی سے دستخط کرانے کا رنج ہوا مگر عبداللہ بے چارے کا کیا قصور تھا۔ ’’تعالیٰ اﷲ عن ذالک علوا کبیرا‘‘ خداتعالیٰ ایسے خرافات سے بہت برتر ہے۔
اس پر بھی مولوی ثناء اللہ نے جب عبداللہ سے حلفاً پوچھا تو اس نے حلف سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔ ’’۲۷؍نومبر۱۹۱۶ء کو اس میاں عبداللہ گواہ نے ہمارے سامنے اس کشف پر قسم کھانے سے انکار کردیا۔‘‘ (حاشیہ عقائد مرزا ص۵)
۳… مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت ورسالت
’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اورنبی ہیں۔خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ اور مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت وکیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اوراس میں پیشین گوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اوریہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی ہے اوراللہ تعالیٰ کے کئی نسان اس کے صدق کے گواہی دے چکے ہیں۔ اس