۱… مرزائی حقیقت کا اظہار
میں یقینا اسی اصول حکمت سے کام لے کر جس کی ہدایت قرآن حکیم نے فرمائی بہت محبت کے ساتھ بے دینوں کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں اور بمنہ تعالیٰ کامیاب ہوتا ہوں نہ کسی پر حملہ کرتا ہوں نہ کسی کا دل دکھاتا ہوں جس کا عملی ثبوت اسی سے مل سکتا ہے کہ جزیرہ بھر کے ہر اس پبلک جلسے میں جہاں میں نے تقریر کی ہمیشہ کثرت کے ساتھ غیر مسلم حضرات شرکت فرماتے رہے اور ہر فرقے کے افراد میرے طرز کلام کی داد دیتے ہوئے رخصت ہوئے حتیٰ کہ واکوائے کے ایک جلسے میں تو ایک پادری صاحب نے بے ساختہ ایسی بینظیر مختصر تقریر فرمائی جو ان کے اسلام سے قریب تر ہونے پر دلالت کررہی تھی۔ دوسرے ایک انگریز رئیس نے بہت مناسب الفاظ میں طرز تقریر کی داد دیتے ہوئے اس کی تائید کی۔ نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ انہی تقریروں سے متاثر ہوکر اس وقت تک تقریباً پچاس آدمی مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں۔ ہاں چونکہ کفر مرزائیت سے تائب ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہی حافظ صاحب پر شاق۔ تو اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں۔ میں نے تو ہرگز ہرگز کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔ ہاں جب مرزائیوں کی طرف سے مناظرہ کی چٹھی کی جھوٹی خبر گرما گرمی کے ساتھ مشہور کی گئی تو مجبور ہوا کہ کھلے طور پر لوگوں کو مرزائیت کی حقیقت سے آگاہ کردوں۔ اس سلسلے میں بھی جوا لفاظ حافظ صاحب کو گراں گزر سکتے ہیں وہ میرے نہیں بلکہ خود مرزا قادیانی کے ہی کلمات ہیں۔ میں صرف ان کا دہرانے والا ہوں۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیے۔
۱… محمدی بیگم سے نکاح اور اس کے شوہر کے انتقال کی پیش گوئی کے متعلق جناب مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں کہ:
الف… ’’اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)
ب… ’’یہ تمام امور جو انسانی طاقت سے بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔‘‘ (شہادت القرآن ص۷۵، خزائن ج۶ ص۳۷۵)
ج… ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
(حاشیہ انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱)
د… ’’برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم‘‘
(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)
یہ ظاہر ہے، دنیا کو معلوم ہے کہ یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی اس نکاح کی حسرت اور اپنی