فی الحقیقت ایسا نہیں ہوتا بلکہ عکس کو اصل شئے سے چونکہ مشابہت تامہ اور مماثلت کاملہ ہوتی ہے اس لئے امتیاز میں خطا واقع ہوجاتی ہے اے خدا تو ہمیں شبہ سے محفوظ بنا اور اشیاء کی حقیقت کا اصلی رخ ہمارے سامنے ظاہر ہوکر اور جو امور دل کو حقیقت سے غفلت میں ڈالنے والے ہیں ان سے ہمیں برکنار کردے یہ مقام مقام مزلت ہے جو اس شک وشبہ کی منزل میں اصل حقیقت پر مطلع ہوگیا وہ محفوظ رہا اور جو شیطان کے دام تزویر میں واقع ہوگیا ابلیس اس سے انواع واقسام کے دعاوی کرادیتا ہے۔ یہ مشکل اور دشوارگزار گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے۔
اس وہم کا علاج تضرع والتجا ہے
چنانچہ مجدد صاحب کا بیان ہے۔ ’’دریں وقت التجاء وتضرع وعجز ونیاز بحضرت حق سبحانہ درکار است تاآنچہ حقیقت کار است ظاہر گردد وایں مقام از مزلۃ اقدام سالکان است‘‘ یعنی ایسے وقت میں خدائے تعالیٰ کی درگاہ میں التجا وتضرع بصد عجز نیاز لازم ہے۔ تاکہ اصل حال ظاہر ہوجائے اور اس مقام میں سالکوں کے قدم پھسل جاتے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ بروزی نبوت کوئی چیز نہیں اور نہ اتحاد وصفی سے دعویٰ نبوت کا حق پیدا ہوتا ہے بلکہ بعضے دل کے کچے عقل کے اندھے انعکاسی حالات کو حقیقت پر محمول کرکے لغزش کھا جاتے ہیں اور دعویٰ نبوت اور رسالت کردیتے ہیں۔
نبوت وہبی ہے کسبی نہیں
اور یہ بالکل سچ ہے کہ بروز کے سایہ میں اگرچہ اوصاف کسبیہ انبیاء کے کسی بزرگ کو حاصل ہوجائیں تو روا ہے لیکن نبوت ایک امروہبی ہے وہ بہ پیرایہ اتباع وتسنن دستیاب نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ نبوت کسبی نہیں جو محنت وریاضت وپابندی اخلاق انبیاء سے مکتسب ہوسکے۔ بلکہ خدا کا فضل ہے۔ جہاں چاہتا ہے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ حضرت محمدﷺ کے بعد اس نے باب نبوت کو مسدود کردیا۔ کیونکہ وہ اسباب کے مہیا ہونے پر موقوف نہ تھی بلکہ فیض الٰہی پر اس کا انحصار تھا۔ قرآن کا دعویٰ ہے: ’’واﷲ یختص برحمتہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم (بقرہ)‘‘ یعنی خدا اپنی نبوت سے (جسکا انحصار محض) اس کی رحمت پر ہے) جسے چاہتا ہے مخصوص کرتا ہے کیونکہ نبوت اسکا فضل ہے اور خدا اپنے بندوں پر بڑی فضل کرتا ہے: ’’یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ لینذر یوم التلاق (سورہ مومن)‘‘ خدا اپنے امر سے جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے وحی کا القا کرتا ہے تاکہ وہ روز قیامت کا خلق اللہ کو ڈر سنائے: ’’ینزل الملائکۃ بالروح من امرہ علیٰ من یشاء من