سے تضرع وابتہال کے ساتھ اپنے خدا سے جو بے کسوں کو روشنی عطا کرتا اور تاریک راہ میں رہنمائی کرتا ہے۔ دعا کیجئے اور وہ اپنی پناہ میں لے کر اس دشوار گزار گھاٹی سے پار اتارے۔
مبتدی اور متوسط اس وہم میں پڑتے ہیں
کیونکہ یہ شائبہ عموماً مبتدیوں اور متوسطوں کو واقع ہوا کرتا ہے اور منتہیٰ اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ حضرت مخدوم زادہ محمد صادق نے ایک سوال خدمت عالی مجدد الف ثانیؒ میں پیش کیا کہ سالک بسا اوقات اپنی تئیں انبیاء کے مساوی پاتا ہے اور گاہے دیکھتا ہے کہ میرا رتبہ ان سے بھی بڑھ گیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔
حضرت مجددمرحوم نے مکتوب ۲۰۸ میں اس کی حقیقت پر بحسن کمال روشنی ڈالی ہے اور مبتدیوں اور منتہیوں کے حال کے مطابق جدا جدا جواب لکھے ہیں۔ خاکسار کا رخ اس وقت محض اس جواب کی طرف ہے جو مبتدیوں کے مناسب حال ہے کیونکہ ان کی مکمل تحریر کو درج کرنا موجب طوالت ہے وہ ناظرین اصل مکتوب میں ملاحظہ فرمائیں۔
’’امادرا ابتداء اگر ایں تو ہم پیدا شود وخودرا در مقامات اکابر یا بدوجہش آنست کہ ہر مقام را در ابتداء وتوسط ظل ومثال است وبلندی ومتوسط چوں بظلال آنہا میر سند خیال مے کنند کہ بحقیقت آں مقامات رسید ند فرق درمیان حقائق وظلال نمیتوا نند کردوہم چنیں شبہ ومثال اکابر راچوں مدرظلال مقامات ایشاں مے یا بند خیال میکنند کہ شرکتے باکابر در مقامات پیدا کردہ اند نہ چنیں است بلکہ اینجا اشتباہ ظل شئی است بنفس شئی ’’اللہم ارنا حقائق الاشیاء کما ہی وجنبنا عن الاشتغال بالملاہی‘‘ یعنی سالک کو ابتداً، اگر یہ وہم دامنگیر ہو کہ وہ اکابر یا انبیاء کے درجہ میں واصل ہوگیا ہے یا ان سے یہی اس کا پایہ عالی تر ہوگیا ہے تو اس کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ ہر مقام ابتدائے اور متوسط کا سالک کی ذات میں ایک انعکاسی نقشہ منعکس ہوتا ہے جو مقامات انبیاء کا ظل وبروز ہے اور بلندی اور متوسط جب ظلی مدارج میں جو حالات انبیاء کی عکسی تصویر ہیں پہنچتے ہیں غلطی سے ایسا سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ فی الحقیقت انہیں مقامات پر فائز ہوگئے ہیں جو انبیاء کی شان کے لائق ہیں اور حقیقت اور عکس میں فرق نہیں کرسکتے اور ایسے ہی اکابر کی حالت کا نقشہ جب اپنے مقامات عالیہ میں منعکس پاتے ہیں جیسے آئینہ میں انسان کی تصویر ظاہر ہوتی ہے تو ان کے دل میں ایک غلط گمان موجزن ہوتا ہے کہ ان کو اکابر انبیاء سے شرکت مقامی حاصل ہوگئی ہے۔