اسے وہم۱؎ ہوجاتا ہے کہ میں مقامات انبیاء میں پہنچ چکا ہوں اور بعض حالات میں وہ اپنے تئیں ان سے بھی برتر سمجھنے لگتا ہے لیکن حقیقت وعکس میں فرق نہیں کرسکتا اور اوہام ہر چہار طرف سے اس کی طبیعت کو روک لیتی ہے۔
بروز سے نبوت حاصل نہیں البتہ بعض دفعہ مساوات انبیاء کا وہم ہوجاتا ہے
یہ مقام مقام لغزش اور آزمائش کا ہے اگر خدا نے اس منزل میں دستگیری کی تو فریب ابلیس وکید شیطانی سے محفوظ رہا وگرنہ اگر ٹھوکر لگی تو گمراہی میں منتقل ہوکر نبوت ورسالت کا مدعی ہوجاتا ہے اور اپنی سابقہ بضاعت کھو۲؎ بیٹھتا ہے ایسے وقت میں ایک ہی نسخہ مجرب ہے کہ خالص توجہ
۱؎ مرزا قادیانی کا کفر یقینی اور قطعی ہے اور اس بات میں ذرہ بھی شبہ نہیں کہ وہ اسلام سے ایسے بے تعلق ہیں جیسے بال خمیر سے لیکن چونکہ وہ اکابر اولیاء کی نقل اتارنا چاہتے ہیں اور وہ بھی غلط اور جعلی طور پر اپنی ذات کو بزمرہ اصفیاء ومجددین شمار کرکے اہل تصوف اور علماء اسرار وحکما ربانیین کی عبارتوں کو بے جا حاشیوں سے آلودہ کرکے بے محل اور ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں اس لئے خاکسار کا ارادہ ہے کہ مؤلفوں کی اصل عبارت سے حجاب کو اٹھا دیا جائے تاکہ چہرہ حقیقت بخوبی نظر آنے لگے اور ناظرین کو علماء اسراء کی تحریرات کا اصلی مقصد معلوم ہوجائے کہ بروز سے ان کی کیا غرض ہے اور یہ کہ بہ پیرایہ بروز نبوت حاصل نہیں ہوسکتی اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ مشابہت اخلاقی کے ضمن میں نبوت کا حصول بھی متیقن ہے۔ حالانکہ علماء تصوف اولیاء سے جن کو وہ اخلاقاً مثیل انبیاء کہتے ہیں نبوت کی نفی کرتے ہیں جیسے آئندہ بیان سے ظاہر ہوگا۔ لیکن یہ سارا بیان حقیقت سے چشم پوشی پر مبنی ہے۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی ولایت اور تجدید تو رہی درکنار آپ کا اسلام بھی ثابت نہیں اور آپ کے جملہ عقائد جماعات مبتدعہ کے موافق اور ان کو دائرہ کفر میں داخل کرنے کے لئے کافی ہیں۔ پھر ولایت یا مجددیت یا نبوت ورسالت اور مسیحیت مہدویت کا منصف تو اعلیٰ ہے وہ کیونکر حاصل ہوسکتا ہے۔ خاکسار نے بطور تبکیت خصم وارخاء عنان موجودہ طرز پر کلام شروع کی ہے اور بیان کی ہے کہ آپ اکابر کی نقل بھی غلط اتار رہے ہیں کیونکہ وہ محض اخلاقی مشابہت کے قائل تھے اور بروز کے ماتحت نبوت کو ممکن الحصول نہ سمجھتے تھے اس لئے اکابر دین میں سے باوجود اخلاقی مشابہت کے کسی کو نہ پائو گے کہ وہ نبوت کا مدعی ہوا ہو اور مرزا قادیانی کے عقائد کفریہ اور ہفوات تو صاف بتلا رہے ہیں کہ آپ کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔
۲؎ مگر مرزا قادیانی کی یہ حالت نہ تھی بلکہ آپ کے عقائد اور احوال پہلے سے جماعات مبتدعہ کے موافق تھے اور آپ نے ساری زندگی ترویج بدعت میں گزاری اور اگر مرزائیہ جماعت ان کی ولایت کے کی قائل ہو تو اب ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ بعد دعویٰ نبوت وہ اپنی سابقہ بضاعت کھوچکی ہیں اور اسلام کی بجائے کفر کو خرید لیا ہے۔ ابلیس نے ایک عرصہ دراز صلاحیت کی راہ اختیار کی۔ لیکن آخر کار اس کا کیا حشر ہوا مگر ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو درجہ ولایت کا راہ بھی معلوم نہ تھا چہ جائیکہ ان کو کسی وقت میں ولی تسلیم کیا جائے۔