حضور خاتم النّبیینﷺ کے اخبار بالغیب کے مطابق اس امت میں جھوٹے مدعیان نبوت ہمیشہ آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔ چونکہ حدیث لا نبی بعدی ان سب مدعیوں کے دعوئوں کا رد کرنے کے لئے سد سکندری کا کام دیتی ہے۔ اس لئے اس حدیث کے معنی میں تحریف پر ہر مدعی نبوت نے توجہ کی۔ ایک شخص نے اپنا نام ہی لا رکھ لیا جس کسی نے اس حدیث سے اس کا رد کیا تو کہنے لگا کہ یہ حدیث سچی ہے مگر تمہیں پڑھنی نہیں آتی۔اس کو اس طرح پڑھو۔ لا نبی بعدی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ لا نام کا ایک شخص میرے بعد نبی ہوگا۔اس طرح ایک عورت کو بھی جنون ہوا۔ اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا جب اس حدیث کو اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ تو کہنے لگی کہ ہاں! یہ صحیح ہے مگر اس میں تو مرد نبی کی نفی کی گئی ہے۔ عورت کے نبی ہونے کی نفی کہاں ہے؟ لا نبیۃ بعدی ہوتا تو تمہارا دعویٰ صحیح تھا۔اگر غور کیا جائے تو ان کی یہ تحریف مرزائی تحریف سے بڑھیا معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس زمانے میں سمجھدار لوگ بکثرت موجود تھے ان کے جھوٹے دعوے نہ چل سکے۔ آج بدقسمتی سے ہمارے زمانے کا جھوٹا مدعی نبوت بھی ہوا تو ایسا کہ جس کو تحریف کرنی بھی نہ آئی۔ اس کے ہوا خواہ بھی ہوئے تو ایسے جن کو اتنا سلیقہ بھی نہیں کہ نبوت منوانے چلے اور شرک تسلیم کر بیٹھے اور اس طرح ان کے جال میں پھنس جانے والے بھی ایسے سیدھے سادے کہ دین اسلام کے احکام کو تو کیا پہنچانتے اتنی تمیز بھی نہیں رکھتے کہ خود غرض، مکار، فریبی، جھوٹے دجال اور بے غرض راست باز، سچے خدا پرست کے درمیان ہی فرق کرسکیں۔
وہ حافظ جی جن کو اتنی لیاقت بھی نہیں کہ مبتدا و خبر، فاعل ومفعول، مضارع واسم ظرف بلکہ مذکر ومونث کو بھی پہچان سکے۔ قرآن کریم پر ہاتھ صاف کرنے کی جرات فرماتے ہیں اور مارشس کے بھولے بھالے لوگوں کو جس طرح چاہتے ہیں بہکاتے ہیں۔ حالانکہ حضورﷺ نے فرمایا: ’’من تکلم فی القرآن برایہ فاصاب فاخطا (ترمذی)‘‘ جس نے قرآن کریم کی تفسیر اپنی رائے سے کی اور اتفاقاً صحیح تفسیر بھی کردی تب بھی اس نے غلطی کی۔ پھر فرماتے ہیں: ’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ فی النار (ابودائود)‘‘ جس شخص نے بغیر علم کے (اپنی رائے سے) قرآن کی تفسیر کی اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں سمجھ لے۔ آیت کریمہ: ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی‘‘ کی تلاوت کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اس آیت کریمہ میں خاتم النّبیین کی تفسیر بھی موجود ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ انبیاء دین الٰہی کی تبلیغ کے لئے آتے ہیں۔ اب چونکہ دین الٰہی کامل ہوچکا۔ پھر آیت انا لہ لحافظون میں رب العالمین نے اس مکمل قانون دین الٰہی کی حفاظت کا ذمہ بھی لے لیا۔ لہٰذا اب کسی نبی کی