ضرورت بھی نہیں رہی۔ مگر اس شخص کی عقل میں یہ معنی کیونکر آئیں۔ جس کی آنکھوں کو پہلے ہی سے مرزا قادیانی کی محبت میں نابینا اور کانوں کو بہرہ بنا دیا گیا ہو۔ حبک الشیء یعمی ویصم۔ نعمت کا حصر نبوت کے لئے کرنا اور پھر اس کو جاری ماننا حافظ جی کی خود رائی ہے۔ نہ قرآن کریم میں کوئی اس کی دلیل، نہ حدیث میں کہیں اشارہ۔
ویتم نعمتہ علیک وعلیٰ ال یعقوب (الایۃ) اتممت علیکم نعمتی (الایۃ) ولاتم نعمتی (الایۃ) وغیرہ آیات کے معانی میں جس قدر تحریف بھی کی گئی وہ مرزائیوں کی ایجاد ہے۔ نہ ان کے یہ معانی حضورﷺ نے سمجھے، نہ کسی صحابی نے جانے، نہ تیرہ سو برس کے کسی مسلمان کی سمجھ میں آئے۔ کلمہ صریح خاتم النّبیین کے ہوتے ہوئے جو ایسی خودرائی کو کام میں لائے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ رب العالمین نے تو قرآن کریم میں کھلے کھلے لفظوں میں فرما دیا کہ: ’’ماکان محمد ابا احمد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ سرکار دو عالمﷺ نے بار بار بتکرار مختلف طریقوں پر مختلف کلمات میں یہی فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں۔ خاتم النّبیین کے معنی خود حضورﷺ نے صاف صاف بتا دئیے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ کہیں فرمایا کہ انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔ کبھی ارشاد ہوا: انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی۔میں عاقب (سب سے پیچھے آنے والا) ہوں اور عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ بلکہ اس سے بھی زائد وضاحت سے فرمایا تاکہ تشریعی، غیر تشریعی، بروزی، ظلی وغیرہ وغیرہ سب قسم کے دعوئوں کی تکذیب ہوسکے کہ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔ پس کوئی شخص بھی کسی قسم کی بھی نبوت کیوں نہ تراش لے، اس تیغ برآں سے وہ پاش پاش ہو ہی جائے گی۔ ایک حدیث میں تو گویا اس امر پر اس قدر تاکید کی وجہ سے بھی خود ہی زبان مبارک سے بیان فرما دی کہ جھوٹے نبی آنے والے ہیں۔ فرمایا: ’’سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی (مسلم)‘‘ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ کذابون کے صیغۂ مبالغہ نے یہ بھی بتا دیا کہ چھوٹے چھوٹے جھوٹوں کا ذکر نہیں، بڑے بڑے جھوٹے تیس ہوں گے۔
۳… دوورقی میں حافظ جی نے علامہ قاضی عیاض کا قول نقل کرکے اپنی ایک تازہ جہالت کا ثبوت بہم پہنچا دیا اس لئے کہ تیس کی تعداد دکی متعلق ان کی عبارت بتا رہی ہے کہ اگرچہ ایسے