جس نے پاکستان میں ایک نئی حکومت قائم کر رکھی ہے اور وہ اس کا امیر المؤمنین بنابیٹھا ہے۔ ان کے اپنے محکمے اور اپنی وزارتیں ہیں۔ یہ وزارت خارجہ پاکستان کی نہیں یہ مرزامحمود قادیانی کی وزارت خارجہ ہے۔‘‘ (میاں منظور حسین ایم۔ایل۔اے، گوجرانوالہ)
غرض ہر تار رگ جاں سے یہی راگ گایا جارہا ہے کہ مرزائیت کو الگ اقلیت قرار دیا جائے اور خود ربوہ کا ڈکٹیٹر مرزابشیرالدین محمود بھی مسلمانوں کی تائید کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’میں نے اپنے ایک نمائندے کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز آفیسر کو کہلا بھیجا ہے کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر اس آفیسر نے کہا کہ وہ تو اقلیت میں ہیں۔ تم ایک مذہبی فرقہ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کرو اس کے مقابلے میں میں دو دو احمدی (مرزائی) پیش کرتا جاؤں گا۔‘‘ (الفضل مورخہ ۱۳؍نومبر ۱۹۴۶ئ)
اور سنو! اخبار ڈیلی میل کے نامہ نگار کو جولائی ۱۹۵۲ء میں ایک بیان دیتے ہوئے بشیرالدین محمود قادیانی کہتا ہے: ’’اگر میری جماعت کو اقلیت قرار دے دیا گیا تو میں فوراً اپنے پیروؤں کو حکم دوںگا کہ وہ اپنے آپ کو احمدی کہلانے کی بجائے مسلم کہلانا شروع کر دیں۔ ہم احمدی اس لئے کہلاتے ہیں کہ ہمارے بانی نے اپنی زندگی میں حکم دیا تھا کہ ہم مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوائیں۔‘‘
اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ اگر حکومت انہیں اقلیت قرار دے تب وہ مسلمان کہلانا شروع کر دیں گے۔ اس سے زیادہ واضح اور صاف سوال کیا ہوسکتا ہے۔ اس لئے گورنمنٹ پاکستان کو چاہئے کہ مسلمانوں کی نہیں تو مرزابشیرالدین محمود کی ہی بات مان لے۔
تشدد کا الزام
ایک سو چوالیس کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اپنے ایک بیان میں یہ الزام عائد کیا کہ احرار اور احمدیوں کے درمیان تصادم بڑھتا جارہا ہے۔ نیز ہوم سیکرٹری گورنمنٹ پنجاب نے کہا کہ احرار رہنماؤں کی تقریروں سے تشدد کا پرچار ہوتا ہے۔ لہٰذا صوبہ کے امن کی بحالی کے لئے مندرجہ بالا دفعہ ضروری سمجھی گئی ہے۔