کورٹ کے جج صاحبان نے اپنے فیصلہ کے دوران میں مندرجہ بالا الفاظ کہے تھے)
پھر ایک سو چوالیس
جون ۱۹۵۲ء کے شروع میں پنجاب گورنمنٹ نے ایک اعلان کیاکہ صوبہ میں بعض حالات کی بناء پر دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ کیا جاتا ہے اور جولائی ۱۹۵۲ء کو آخر میں یہ حکم واپس لے لیاگیا۔ اس عرصہ میں پنجاب بھر میں گرفتاریاں ہوئیں۔ لاٹھی چارج کیاگیا۔ اشک آور گیس سے کام لینا پڑا۔ یہاں تک کہ گولیاں بھی چلیں۔ یہ تمام حادثات ہوئے اور ہوکر ختم ہوگئے۔ لیکن ان کی یاد کبھی فراموش نہیں ہوسکتی۔ شاید قیدی اپنے ایام اسیری بھول جائیں۔ گجرات پولیس کی لاٹھیوں کے زخم مندمل ہو جائیں۔ لیکن ان ماؤں کے زخم کون اچھے کر سکتا ہے جن کے لال ملتان میں شہید کر دئیے گئے۔ ان بہنوں کے آنسو کون پونچھ سکتا ہے جن کے بھائی لوٹ کر انہیں نہیں مل سکیں گے۔ وہ باپ کیسے چپ رہ سکتے ہیں جن کا عصائے حیات ملتان کے بازاروں میں ٹوٹ کر رہ گیا ہو۔ ان معصوم بچوں کا داغ یتیمی کون دھو سکتا ہے۔ جن کے باپ اچھے بھلے بازار گئے لیکن واپس نہ آسکے۔
لاریب
یہ مسئلہ اتنی ہی بڑی قربانی کا تقاضا کرتا تھا اور یہ اسی خون کا اثر تھا کہ ۲۷؍جولائی کو پنجاب لیگ کونسل کے اجلاس میں ہر کونسلر کہہ اٹھا کہ: ’’ربوہ کا جائزہ لینے سے محسوس ہونے لگتا ہے کہ مرزائیوں نے پاکستان میں ایک الگ حکومت قائم کر رکھی ہے۔ ربوہ دراصل ایک سازشی مرکز ہے۔ حکومت نے مرزائیوں کو چناب کے کنارے ایک علیحدہ مرکز دے کر انہیں خلاف ملک وملت سازشوں کا موقعہ دیا ہے۔‘‘ (حضرت خلیق قریشی لائل پور) ’’مرزائی پاکستان میں جدا حکومت کر رہے ہیں۔ مرزائی مبلغ تبلیغ کے بہانے دنیا میں کفر اور ارتداد پھیلا رہے ہیں اور آپ نے حکومت پر زور دیا کہ مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے۔ ورنہ ملک میں آج جو اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس کا دور ہونا ناممکن ہے۔‘‘
(مہر محمد صادق ایم۔ایل۔اے، لائل پور)
’’اگر حکومت عبدالغفار خان کو محض اس بناء پر گرفتار کر سکتی ہے کہ انہوں نے پٹھانستان کے نام پر ایک نئی حکومت بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا تو پھر حکومت مرزامحمود کو گرفتار کیوں نہیں کرتی۔