تحریف قرآن حکیم
مرزاغلام احمد قادیانی نہ صرف لاتعداد کافرانہ وملحدانہ خیالات کے حامل تھے۔ بلکہ قرآنی آیات میں تحریف وتصرف کے بھی مرتکب تھے۔ لغات فیروزی کے مطابق تحریف کے معانی متن کے اصل الفاظ کو بدل کر کچھ اور لکھ دینے کے ہیں۔ لہٰذا قرآن حکیم کی آیات میں دانستہ طور پر الفاظ کی کمی بیشی تحریف لفظی کے مترادف ہے۔ قرآن مجید کا ترجمہ کرنے میں ارادۃً اصل معانی کو نظرانداز کر کے کوئی دوسرا مفہوم اختیار کرنا تحریف معنوی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ آقائے دو جہاں رسول عربیﷺ، صحابہ کرامؓ یا مقدس مقامات کی شان میں نازل شدہ آیات کو کسی اور شخص یا مقام پر چسپاں کرنا تحریف منصبی کہلاتا ہے۔ مرزاقادیانی نے قرآن حکیم میں نہ صرف تحریف لفظی ومعنوی کا ارتکاب کیا۔ بلکہ حضورﷺ اور مکہ مکرمہ کی شان وعظمت میں نازل شدہ آیات کو اپنی ذات اور قادیان کی سرزمین پرمنطبق کرنے کی جسارت بھی کی۔
ملت اسلامیہ اس امر پر بالاجماع متفق ہے کہ ہر وہ شخص جو مقدس اور ناقابل منسوخ کلام الٰہی میں کسی قسم کی تبدیلی کر کے اس کے تقدس کو مجروح کرے، کافر ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کو آخری آسمانی کتاب ماننے والا کوئی بھی مسلمان ایسی جسارت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تحریف قرآنی کی چند مثالوں کا جائزہ لینے سے پیشتر اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ مرزاقادیانی کی نظر میں قرآن حکیم کی کیا وقعت تھی؟ اس کا دعویٰ ہے کہ اس پر وحی نازل ہوتی تھی۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ قرآن مجید پر بطور آخری وحی ایمان لانے کے لئے تیار نہ تھا۔ بلکہ اس متبرک ومقدس کتاب سے بظاہر اس کی شیفتگی محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے تھی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اپنے دعاویٰ میں اس انداز سے مبہم قسم کے اشارے کر جاتا۔ جس سے لوگ مغالطہ میں مبتلا ہوکر گمراہی کا شکار ہو جاتے۔ مثلاً: ’’قرآن دنیا سے اٹھ چکا تھا۔ میں اسے آسمانوں سے دوبارہ لے کر آیا ہوں۔‘‘ (ازالہ اوہام حاشیہ ص۷۲۷، خزائن ج۳ ص۴۹۳)
’’میں قرآن کی مانند ہوں اور یہ مجھ پر ظاہر کیاگیا ہے۔‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۱۱۹)
مرزاقادیانی کی درج ذیل عبارت ہر ذی شعور کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ ’’میں قرآن کی غلطیاں دور کرنے کے لئے آیا ہوں۔ جو تفاسیر کی کثرت کے باعث پیدا ہوگئی تھیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۰۸، خزائن ج۳ ص۴۸۲)