ختم نبوت کی تشریح
مسلمان تو ختم نبوت کی یہ تشریح کرتے ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ خواہ وہ نبی مستقل ہو یا ظلی وبروزی۔ لیکن سعید بن وحید نے ختم نبوت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’کیونکہ اعلان ختم نبوت کا منشاء ہی یہ ہے کہ اسلام اور صرف اسلام ہی دنیا کا واحد دین ہو۔‘‘ (ملی مسائل کا قرآنی حل ص۶۲)
اس عبارت سے عوام الناس کو آسانی سے دھوکہ دیا جاسکتا ہے کہ بات تو بڑی اچھی لکھی ہے۔ مگر یہ نہیں سمجھتے کہ ختم نبوت کی تشریح جو بالکل واضح ہے کہ حضورﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس کو چھوڑ کر اس تشریح کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وجہ یہ ہے کہ اس تشریح کی رو سے اگر کوئی مستقل نبوت کا دعویٰ نہ کرے۔ بلکہ ظلی نبی یا بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور یہ کہے کہ اس کا مذہب اسلام ہی ہے تو وہ چونکہ اسلام کو دنیا کا واحد دین مان رہا ہے۔ اس لئے اس کا عقیدہ ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
حکومت سے اپیل
ہم سطور بالا میں دئیے گئے حوالجات کی طرف اپنی عوامی حکومت کو توجہ دلاتے ہوئے تمام مسلمانوں کی طرف سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ چونکہ حضورﷺ کے بعد چن بسویشور مدعی نبوت ہے۔ نیز یوسف موعود اور مأمور وقت اور دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا مثیل ہونے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے اندر حلول خدا کا مدعی ہے۔ اس لئے چن بسویشور کا فرد مرتد ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کو نبی یا بزرگ بلکہ مسلمان سمجھنے والے بھی کافر ہیں۔ دیندار انجمن والے جو اپنے کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ان کو اپنا دینی پیشوا مانتے ہیں۔ وہ بھی مرتد ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
جس طرح حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو کافر ومرتد قرار دے کر غیرمسلم اقلیت قرار دیا ہے اور یہ موجودہ حکومت کا اتنا عظیم کارنامہ ہے کہ وجود پاکستان سے آج تک حکومت پاکستان میں اتنا اہم کارنامہ انجام نہیں پایا۔ اسی طرح دیندار انجمن والوں کو بھی کافر ومرتد قرار دے کر ان کے غیرمسلم اقلیت ہونے کا اعلان کرے۔
دراصل یہ قادیانیوں ہی کی ایک شاخ ہے۔ جس کو ہم پیچھے بارہا ثابت کر چکے ہیں۔ مگر قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے بعد یہ چالاکی سے اپنے کو قادیانیوں سے الگ ظاہر کر رہے ہیں۔ تاکہ جو حکم قادیانیوں پر ہوا ہے۔ یہ اس سے خارج رہیں۔