’’میں پہلے مرتد تھا۔ اب دوبارہ میں نے اسلام قبول کیا ہے۔ میں غلام احمد قادیانی اور صدیق دیندار چن بسویشور اور ان کی جماعت کو کافر اور مرتد سمجھتا ہوں۔ میں آئندہ ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔‘‘ نیز یہی اعلان اخبار جنگ اور انجام میں بھی شائع کریں۔ اس کے بعد آپ کو مسلمان قرار دیا جائے گا۔ باقی رہا امامت کا مسئلہ تو آج ہی کوئی سکھ اسلام قبول کرے اور فوراً اسے امامت کا منصب بھی دے دیا جائے یہ نہ عقلاً قابل تسلیم ہے نہ شرعاً۔ ایک سال تک آپ کے حالات اور دیندار انجمن سے قطع تعلق کا جائزہ لیا جائے گا۔ اطمینان ہونے کے بعد آپ کو امام بنایا جاسکتا ہے۔
اس منافق نے جب دیکھا کہ یہاں اس کا کوئی داؤ نہیں چل رہا تو راہ فرار اختیار کی۔ کسی دوسری مسجد میں جاکر امامت کی صورت میں عوام کے ایمان پر غارتگری شروع کر دی ہوگی ؎
راہزن، ڈاکو، لٹیرے، خود غرض، حق ناشناس
بھیڑئیے پہنے ہوئے پھرتے ہیں بھیڑوں کا لباس
حضورﷺ کی بعثت ثانی
اپنی کتاب مہرنبوت میں لکھتے ہیں: ’’الحمدﷲ اعلان نبوت منجانب احمدیاں مسیح موعود کی شہرت کا باعث بنا اور یہ شہرت قیامت کے قائم ہونے کی ایک عظیم الشان حجت تھی۔ یہی ایقان قیامت بعثت ثانی کے ثبوت میں بینات بن کر ہمالیہ کے پہاڑ کی طرح سربلند اور مستحکم کھڑا ہے۔‘‘
(مہر نبوت ص۵۶)
اس عبارت سے تشفی نہ ہو تو مزید تشریح سنئے: ’’جب بعثت ثانی میں ان کے باپ حضرت محمد مصطفیﷺ تشریف لائے ان کو چھوڑ کر احمدیوں نے ولد اﷲ کی حقیقت کو قائم رکھنا چاہا تو ان کو فتنوں میں مبتلا کردیا۔‘‘ (مہرنبوت ص۳۶)
میرے خیال میں حضرات قارئین نہیں سمجھے ہوںگے۔ یہ دفع دخل مقدر ہے۔ مطلب یہ کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ تو نبی برحق ہے تو یہ احمدی (قادیانی) تجھے کیوں نہیں مانتے؟ جواب یہ دیا ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد حضورﷺ تشریف لائے تو اکثر عیسائیوں نے نہ مانا، اسی طرح مسیح موعود کے بعد جب دوبارہ حضور کی بعثت ثانی بشکل چن بسویشور ہوئی تو ان احمدیوں نے بھی عادت سابقہ کی طرح نہ مانا۔