ایک زمانہ تھا جب مسلمان مرزائیوں کے خلاف کچھ سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ لیکن احرار رہنماؤں نے ایک ایک دروازے پر جاکر دستک دی اور ایک ایک کان میں کہا کہ مرزائی پاکستان کے اندر بھارت اور انگلستان کا جاسوس ہے۔ یہ درست ہے کہ اکثر اوقات ہماری آواز صدا بصحراء ثابت ہوئی اور اس سے بھی انکار نہیں کہ اس راہ میں چلتے چلتے ہمارے کانوں نے ایسی آوازیں بھی سنیں کہ جن آوازوں میں دشنام کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مگر ہم پہچانتے تھے کہ ان آوازوں میں اکثر آوازیں مرزائیوں کی ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کا سا میک اپ کا ہوا ہے۔ مگر عزم بلند اور ارادے کی پختگی ہمیں ان راہوں سے ہٹا نہ سکی۔ ہم جانتے تھے کہ ہمارے سامنے دنیا کی عزت نہیں بلکہ آخرت کا سودا ہے اور یہ سودا جان دے کر خریدنا پڑتا ہے۔ آج پاکستان کے درویوار ہم سے ہم آہنگ ہیں۔ قوم کا ایک ایک فرد ہماری سر سے سر ملا کر وہی گیت گارہا ہے۔ جسے کل تک بے وقت کی راگنی کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ہماری آواز تو فقیروں کی آواز تھی۔ شاید اس کا گذر کاخ امراء تک ہوتا کہ نہ ہوتا۔ لیکن اب تو وزیر بھی کہنے لگے ہیں: ’’دوسری چیز جس میں آج ایک غصہ ایک رنج اور ایک دشواری محسوس ہورہی ہے۔ اس کا باعث مسلمان نہیں بلکہ احمدیوں کی روش ہے۔ اس لئے اس قرارداد کے دوسرے حصے سے جو اختلاف پیدا ہوا ہے۔ اس خرابی چپقلش ، بے اطمینانی کی تمام ذمہ داری احمدیوں کے غلط عقائد پر مبنی ہے۔‘‘
یہ الفاظ میاں ممتاز دولتانہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ۲۷؍جولائی ۱۹۵۲ء کو پنجاب لیگ کونسل کے اجلاس میں کہے۔ آج سے پانچ برس پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بھی وہی کہے گا جو پنجاب کا امیرشریعت کہہ رہاہے۔ بلکہ پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر محمد منیر اور جسٹس عطاء محمد جان نے بھی کہہ دیا کہ: ’’احمدیوں کا وجود مسلمانوں کے لئے مسلسل اشتعال انگیزی کا باعث ہے اور مرزائیت کی تبلیغ مسلمانوں کے اشتعال دلانے کے لئے کافی ہے۔‘‘
(اخبار زمیندار مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۵۲ئ)
(یاد رہے کہ اوکاڑہ میں ایک مرزائی غلام محمد کو ایک مسلمان محمد اشرف نے قتل کر دیا تھا۔ سیشن کورٹ نے محمد اشرف کو حبس دوام کی سزادی تھی۔ لیکن اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں غلام محمد مرزائی کی بیوی نے درخواست دی تھی کہ محمد اشرف کو سزائے موت ملنی چاہئے۔ اس پر ہائی