پابندی عائد کر دی گئی۔ انگریز اپنے نبی کی حفاظت کے لئے کیل کانٹے سے لیس ہوکر سامنے آگیا۔ ہتھکڑیاں، بیڑیاں اور جیل خانہ کی تمام صعوبتوں کو مدنظر رکھ کر مجلس احرار کے رہنما انگریز کے عسکری نظام سے برسرپیکار ہوگئے۔ ایک ماہ کے بعد دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔ اپنے اقدام کی آپ ہی مذمت کرنا پڑی۔ مسلمانوں کو قادیان میں نماز جمعہ پڑھنے کی عام اجازت ہوگئی۔ یہ مرزائیت پر مجلس احرار کی دوسری فتح تھی۔
تقسیم ملک کے بعد
آدمی جب آدمیت سے عاری ہو جاتا ہے تو پھر اسے عقل وخرد کی کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ ایسے میں وہ اپنے آپ سے بیگانہ ہوکر جو راستہ اپنے مستقبل کے لئے تجویز کرتا ہے۔ وہ راستہ نیکی کا راستہ نہیں ہوتا۔ بلکہ معصیت اور برائی کی تمام خوبصورتی ان راہوں پر بکھری پڑی ہوتی ہے۔ جس سے گذرتے وقت وہ خوشی اور مسرت سے پاگل ہو جاتا ہے۔
۱۹۴۷ء کا سال انسانوں کے لئے ایسا ہی سال تھا۔ اس سن میں انسانوں نے سب کچھ کھو دیا۔ یہاں تک کہ انسانیت بھی ضائع کر دی۔ اس سال جو دولت ضائع ہوئی تھی۔ وہ دوسرے سالوں میں پھر حاصل ہو جائے گی۔ عمارات جو راکھ کا ڈھیر ہوچکی ہیں۔ پھر سے استوار کر دی جائے گی۔ افراد جنہیں موت نے اٹھا لیا ان کا نعم البدل قدرت کے ہاں سے مل سکتا ہے۔ لیکن جو چیز کھوکر نہیں مل سکتی۔ وہ عورت کی عصمت ہے۔ ۱۹۴۷ء کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ جس کی تلافی کبھی نہیں ہوسکتی۔
اس پرآشوب دور سے جب ذرا فرصت ملی اور آنکھوں کے سامنے سے لہو اور کانوں میں خون خون کی صدائیں آنی بند ہوئیں تو زعمائے احرار نے مملکت خداداد کو ایسے لوگوں کے نرغے میں گھرا ہوا پایا جس کا حصار تنگ ہورہا تھا اور قریب تھا کہ سلطنت جس کی بنیادوں میں ساٹھ ہزار عورتوں کی آبرو اور دس لاکھ سے زائد مسلمانوں کا خون دیا گیا تھا۔ کفر کے اقتدار میں آجاتی۔ چنانچہ چار برس کی مسلسل چیخ وپکار کے بعد ملک اس سازش سے آشنا ہوگیا۔ جس سے پاکستان کے استحکام کی تمام دیواریں منہدم ہوجانے کا ڈر تھا۔ اس کا سرغنہ مرزابشیرالدین محمود قادیانی اور ربوہ اس خوفناک سازش کا مرکز تھا۔