تحریک شہید گنج
۱۹۳۵ء کے وسط میں بعض سیاسی ضرورتوں کے تحت پنجاب کی بساط سیاست پر پھر کچھ مہرے نمودار ہوئے اور یکایکی لاہور لنڈا بازار کی سو سالہ پرانی عمارت کو سرکاری کرینوں سے گرادیا گیا۔ یہ عمارت عہد مغلیہ میں مسجد کے طور پر بنائی گئی تھی اور آج تک مسجد تھی۔ گو سرکاری کرین پر کام کرنے والے مزدور سکھ قوم کے دو فرد تھے۔ لیکن ان دو آدمیوں کا بوجھ ساری سکھ قوم پر آپڑا، اور بظاہر مسلمان عوام کی نظر میں سکھ قوم مجرم قرار دی گئی۔ چلو ٹھیک ہے سکھ ہی مجرم تھے۔ مگر جب آگ بھڑک اٹھی تو سرکاری دامن نے اس آگ کا رخ سکھوں کی بجائے مجلس احرار کی طرف کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جو کل تک دامن مرزائیت کی دھجیاں نوچ رہے تھے۔ مجلس احرار سے برسرپیکار نظر آنے لگے۔
مرزابشیرالدین محمود قادیانی جو اس سے پیشتر پنجاب چھوڑ کر صوبہ سندھ کو اپنا مرکز بنارہا تھا اور سادہ لوح مرزائیوں کے گاڑھے پسینے کی کمائی جمع شدہ روپیہ سے خریدی ہوئی جائیداد نئے مرکز میں تبدیل کر رہا تھا۔ اس ہماہمی میں اس کے اکھڑے ہوئے پاؤں پھر سے جم گئے اور اس نے مسلمانوں کے قلعہ میں کھڑے ہو کر مسلمانوں کا لباس پہن کر مجلس احرار پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
مستقبل کی تحریک گواہی دے گی کہ ان دنوں مسلمان نے اس قدر مجلس احرار پر تشدد نہیں کیا۔ جس قدر مرزائیوں نے مسلمان بن کر کیا۔ چنانچہ خود مرزامحمود قادیانی نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ تحریک شہید گنج میں مجلس احرار کے خلاف ہزاروں روپے کے اشتہار تقسیم کئے گئے تھے۔ اسی سلسلہ میں حضرت امیرشریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ کو قتل کرنے کے لئے ایک سکھ کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ اس واقعہ کی تفصیل کے لئے میری دوسری کتاب آتش کدہ کا انتظار کریں۔ آخر وقت آیا کہ غلط فہمیوں کے تمام بادل چھٹ گئے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوکر رہا۔ گو اقتدار پرست لوگ وقتی طور پر اپنے ارادے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن مرزائیت کو پھر بھی منہ کی کھانی پڑی۔
قادیان میں دفعہ ۱۴۴
اسی سال کے اختتام پر انگریزی نبی کے دارالخلافہ قادیان میں مسلمانوں پر نماز جمعہ کی