بشارت دی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی اور ساتھ ہی بچے کی پاکدامنی کا اعلان بھی کر دیا۔ ’’قال انما انا رسول ربک لا ہب لک غلاما ذکیا (مریم)‘‘ {کہنے لگا (فرشتہ) سوائے اس کے نہیں کہ میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار تیرے کا کہ بخش جاؤں تجھ کو لڑکا پاکیزہ۔}
اب کون فیصلہ کرے کہ قرآن کریم کا ارشاد بجا ہے یا مرزاغلام احمد قادیانی کی باتیں۔
خاتم الانبیاء کی توہین
بنیادی پتھر عمارت کی جان ہوتا ہے۔ اگر یہی کمزوری ہوتو ساری عمارت دھڑام سے نیچے آرہے گی۔ اسلام ایک عمارت ہے۔ جس کی بنیاد ختم المرسلین حضرت محمدﷺ پر ہے اور یہی وہ محور ہے جس کے گرد ارض وسماوات کے تمام نظام چکر کاٹ رہے ہیں۔ لیل ونہار کی سیاہی وسفیدی ان کے لبوں کی مسکراہٹ اور غصہ بھری نگاہوں کا ایک ہلکا سا پرتو ہیں۔ چاند اور ستاروں نے اپنی رعنائیاں انہی کے چہرۂ انور سے مستعالی کی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ اور ؎
یہ خزاں کی فصل کیا ہے فقط ان کی چشم پوشی
وہ ذرا نقاب الٹ دیں تو ابھی بہار آئے
دیگر مذاہب کے پیروؤں نے بھی اس محسن کائنات کو اگر نہ مانا ہو۔ لیکن دلی احترام سے جانا ضرور ہے اور اس حقیقت سے انکار کفر ہوگا کہ محمد کے گھرانے کے تمام افراد نے بنی نوع انسان کے لئے ہر مصیبت کو قبول کیا۔ چنانچہ میدان کربلا کا واقعہ اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف نگاہیں بلکہ دل بھی ان کا نام آتے ہی احترام سے جھک جاتے ہیں۔ جس خاندان کے بنی نوع انسان پر اس قدر احسانات ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی اس پاک گھرانے کے متعلق کہتا ہے۔
’’ایک دن جب میں عشاء کی نماز سے فارغ ہوا۔ اس وقت نہ تو مجھ پر نیند طاری تھی اور نہ ہی میں اونگھ رہا تھا اور نہ ہی کوئی بے حوشی کے آثار تھے۔ بلکہ میں بیداری کے عالم میں تھا۔ اچانک سامنے سے ایک آواز آئی۔ آواز کے ساتھ ہی دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد میں دیکھتا ہوں کہ دروازہ کھٹکھٹانے والے جلدی جلدی میرے قریب آرہے ہیں۔ بے شک یہ پنجتن پاک تھے۔ یعنی علیؓ ساتھ اپنے دو بیٹوں اور ساتھ اپنی بیوی فاطمہ کے اور سردار مرسلین کے اور دیکھتا کیا ہوں کہ فاطمتہ الزہرا نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور میری طرف گھور گھور کر دیکھنا شروع کیا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۹،۵۵۰، خزائن ج۵ ص ایضاً)