یوں تو مندرجہ بالا عبارت میں حضور سرور کائناتﷺ کے سارے خاندان کی توہین ہے۔ لیکن حضرت فاطمتہ الزہراؓ کے متعلق یہ لفظ کہ: ’’اس نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔‘‘
خاتون جنت کی توہین کا کس قدر نمایاں پہلو لئے ہوئے ہے۔ زمانہ ماضی میں رواج تھا کہ اگر محلہ میں کسی بدمعاش نے کسی کی بہو، بیٹی کے متعلق کوئی نازیبا کلمات کہے تو سارا محلہ اس کی جان کا لاگو ہو جاتا تھا۔ لیکن آہ! زمانہ حال کی بدحالی! کہ آج ہم اپنے بڑوں کی عزت کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس کے الٹ ؎میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
اس سے آگے کہتا ہے ؎
زندہ شد ہر نبی بآمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
ترجمہ: میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہوگیا۔ ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے۔
(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)
یہ تو تھی مرزاغلام احمد قادیانی کی اپنی عبارت۔ اب اس کے بیٹے بشیرالدین محمود قادیانی کی بات سنئے: ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اﷲ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۴ئ)
توہین امام حسینؓ
افسانہ نویس جب افسانہ تحریر کرتا ہے تو زیب داستان کے لئے اس میں مصنوعی رنگ بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن داستان کربلا کو حسینؓ نے اپنے خون سے اس قدر حسین بنا دیا ہے کہ تیرہ سو سال گذر جانے کے بعد بھی ہر روز سرشام آسمان پر شفق کی سرخیاں اس کہانی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اتنے عرصے میں جس قدر آنسو امام مظلوم کی یاد میں عالم اسلام نے بہائے ہیں۔ اگر تمام کو جمع کر لیا جائے تو نہ جانے کس قدر نیل وفرات اس میں سے بہہ نکلتے اور زمانہ کے ہزاروں یزید اور شمر اس میں خاشاک کی طرح بہ جاتے۔ اگر یقین نہ ہوتو سبز گنبد کی جالی کو پکڑ کر سوال کرو کہ تیرے پر کھیلنے والے سوار نے اسلام کی تصویر میں رنگ بھرنے کے لئے اپنے سارے کنبہ کا خون کیوں بہایا تھا۔ ان مہوش شہزادیوں کو جنہیں دیکھنے کو آسمان کے ستارے ترس گئے