آگے چل کر انہوں نے کہا: ’’جماعت احمدیہ کے لوگ اس کے بانی کو دل سے ایک سچا اور بہت بڑا نبی تصور کرتے ہیں۔ بہرحال خاص دنیوی اور تاریخی زاویہ نگاہ سے یہ تمام کو تسلیم ہے کہ حضرت مرزاغلام احمد کی تحریک دور حاضرہ میں اسلام کی ایک بہت بڑی اصلاحی تحریک ہے۔ نیز اتحاد عالم کے لئے یہ ایک ایسی تحریک ہے۔ جس میں خیروبرکت کی انتہائی قوتیں پنہاں ہیں۔ ہم صدق دل سے اس کی ترقی کے خواہاں ہیں۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۳؍مارچ ۱۹۳۸ئ)
مسرت چندر بوس مسٹر سبھاش چندر بوس کے بڑے بھائی تھے۔ سیاسیات ملک سے لگاؤ رکھنے والے جانتے ہیں کہ مسٹر سرت چندر بوس کس قدر ہندو نواز تھے اور فرقہ پرستی ان کے اندر گھر کرچکی تھی۔ ایسے آدمی کا مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق کہنا کہ: ’’احمدیہ تحریک دور حاضرہ کی نہایت ہی ضروری تحریک ہے۔‘‘ اپنے اندر کس قدر سیاسی عزائم رکھتا ہے۔
ڈاکٹر شنکر داس کے بیان کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک بیان شائع ہوا۔ جو دراصل ڈاکٹر شنکر داس کے مضمون کی حمایت میں تھا۔ بظاہر اس کا رخ ڈاکٹر اقبالؒ کے اس بیان کی طرف تھا جو انہوں نے مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دینے کے سلسلے میں دیا تھا۔ جنوری کے دوسرے ہفتے ڈاکٹر مرحوم نے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہ: ’’میں خیال کرتا ہوں کہ قادیانیت کے متعلق میں نے جو بیان دیا تھا۔ جدید اصول کے مطابق صرف ایک مذہبی عقیدہ کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس سے پنڈت جواہر لال اور قادیانی دونوں پریشان ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ کی بناء پر دونوں اپنے دل میں مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی وحدت کے امکانات کو بالخصوص ہندوستان میں پسند نہیں کرتے۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہندوستان کے قوم پرست جن کے سیاسی تصورات نے ان کے احساس وحقائق کو مردہ کردیا ہے۔ اس بات کو گوارہ نہیں کرتے کہ شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے دل میں خود اعتمادی اور خود مختاری کا خیال پیدا ہوا۔ اس طرح یہ بات بھی ہورہی ہے کہ قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانان ہند کا سیاسی وقار بڑھ جانے سے ان کا مقصد فوت ہو جائے گا کہ رسول عربیؐ کی دسترس سے قطع وبرید کر کے ہندوستانی نبی کے لئے ایک جدید امت تیار کریں۔
حیرت کی بات ہے کہ میری اس کوشش سے کہ مسلمانان ہند کو یہ بتاؤں کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس وقت جس نازک دور سے وہ گذر رہے ہیں۔ اس میں ان کی اندرونی یکجہتی کس قدر