نجات ہے اور اس میں ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر احمدی کے دل میں ہندوستان کے لئے پریم ہوگا۔ کیونکہ قادیان ہندوستان میں ہے۔ مرزاقادیانی بھی ہندوستانی تھے اور اب جتنے خلیفے اس فرقہ کی رہبری کر رہے ہیں۔ وہ سب ہندوستانی ہیں۔ اعتراض ہوسکتا ہے کہ جب مرزائی قرآن کو الہامی کتاب مانتے ہیں تو وہ اسلام سے الگ کیسے ہوئے؟ اس کا جواب سکھوں کی موجودہ ہندوؤں سے علیحدگی گروگرنتھ صاحب میں رام کشن، اندرو شنو سب ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر آتا ہے۔ مگر کیا سکھوں نے رام، کرشن کی مورتیوں کا کھنڈن نہیںکیا؟ گوردواروں سے رامائن اور گیتا کا پاٹھ نہیں اٹھایا۔ کیا سکھ اب ہندو کہلانے سے انکار نہیں کرتے؟
اسی طرح وہ زمانہ دور نہیں جب کہ احمدی برملا یہ کہیں گے کہ لو صاحب ہم محمدی مسلمان نہیں ہم تو احمدی مسلمان ہیں۔ کوئی ان سے سوال کرے گا کیا تم حضرت محمد(ﷺ) کی نبوت کو مانتے ہو؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہم حضرت محمدؐ، عیسیٰ ؑ، رام، کرشن سب کو اپنے اپنے وقت کا نبی تصور کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہندو، عیسائی یا محمدی ہوگئے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان احمدی تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ احمدیت ہی عربی تہذیب اور اسلام کی دشمن ہے۔ خلافت تحریک میں بھی احمدیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا۔ کیونکہ وہ خلافت کو بجائے ترکی یا عرب میں قائم کرنے کے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات عام مسلمانوں کے لئے جوہر وقت پان اسلام ازم وپان عربی سنگھٹن کے خواب دیکھتے ہیں۔ کتنی ہی مایوس کن ہو مگر ایک قوم پرست (ہندو) کے لئے باعث مسرت ہے۔‘‘
(اخبار بندے ماترم مورخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۳۵ئ)
اس مضمون کا شائع ہونا تھا کہ ہندوستان کے اکثر ہندو رہنماؤں نے قادیانی مذہب کی حمایت میں کھلم کھلا باتیں کہنا شروع کر دیں اور سب سے پہلے بنگالی ہندو نے اس آواز پر کان دھرا۔ کیونکہ وہاں کی مسلم اکثریت سے ہندو بہت زیادہ خائف تھا۔ ۱۹۳۵ء ایکٹ کی رو سے وہاں کے مسلم وزارت کے سامنے ہندو اپنی تمام ہوشمندیوں کے باوجود ہتھیار ڈال چکا تھا۔ چنانچہ ۶؍مارچ ۱۹۳۸ء کو مرزائی دارالتبلیغ کے سلسلے میں ایک افتتاحی جلسہ البرٹ ہال کلکتہ میں زیر صدارت شیری سنت کمار رائے میر کارپوریشن آف کلکتہ منعقد ہوا۔ جس میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر سرت چندر نے یہ بھی کہا کہ: ’’فی الحقیقت جماعت احمدیہ کی تعلیم اپنی نوعیت میں دور حاضرہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔‘‘