ضروری ہے۔ ان کے افتراق پرور انتشار انگیز قواعد سے محترز رہنا لازمی ہے۔ جو اسلامی تحریکوں کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پنڈت جی (جواہر لال نہرو) کو یہ موقع ملا کہ وہ اس قسم کی تحریکوں سے ہمدردی فرمائیں۔‘‘ (مضمون اسلام اور احمدیت، رسالہ اسلام لاہور مورخہ ۲۲؍جنوری ۱۹۳۶ئ)
یاد رہے کہ بشیرالدین محمود اپنی ڈائری میں یہ بات تسلیم کرچکا ہے کہ: ’’ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی۔ کیونکہ وہ مسلمانوں ہی کا بگڑا ہوا فرقہ ہیں۔‘‘ (الفضل قادیان مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ئ)
اگرچہ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے مسلمانوں کا ماتھا اسی دن ٹھنکا تھا۔ جب ۲۹؍مئی ۱۹۳۶ء کو قادیانی رضاکاروں نے پنڈت جواہر لال نہرو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا لاہور میں استقبال کیاتھا۔ لیکن حالات کے اس قدر جلد پلٹا کھا جانے کی امید بہت کم تھی۔ تاہم بعد کے واقعات نے ہوا کے رخ کا پتہ دیا۔ ان واقعات اور حالات سے قادیانیوں کے عزائم کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ہندوؤں سے درپردہ کیا سازش کر رکھی تھی۔ چنانچہ تقسیم ملک سے پہلے ہی مرزابشیرالدین محمود نے اپنے مریدوں کی ایک نجی مجلس میں اپنا ایک الہام بیان کرتے ہوئے کہا: ’’ابتداء میں حضور نے اپنا ایک رویا بیان فرمایا۔ جس میں ذکر تھا کہ گاندھی جی آئے ہیں اور حضور کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر لیٹنا چاہتے ہیں اور ذرا سی دیر لیٹ کر اٹھ بیٹھے اور گفتگو شروع کر دی۔ دوران گفتگو میں حضور نے گاندھی جی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے اچھی زبان اردو ہے۔ گاندھی جی نے بھی اس کی تصدیق کی۔ پھر حضور نے فرمایا دوسرے نمبر پر پنجابی ہے۔ تارا سنگھ کی زبان گاندھی جی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور مان گئے اس کے بعد رویا میں نظارا بدل گیا اور حضور گاندھی جی کے کہنے پر عورتوں میں تقریر کرنے تشریف لے گئے۔ مگر وہ بہت تھوڑی آئی ہوئی تھیں۔ اس لئے حضور نے تقریر نہیں فرمائی۔
اس رویا کی تعبیر میں حضور نے فرمایا کہ موجودہ فسادات کے متعلق ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو مسلم تعلقات اس حد تک نہیں پہنچے کہ صلح نہ ہوسکتی ہو۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد کوئی صورت نکل آئے۔
آگے چل کر آپ نے اپنا ایک اور الہام ظاہر کیا۔ ہندوستان جیسی مضبوط بیس جس قوم کو مل جائے اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اﷲتعالیٰ کی اس میں مشیت ہے کہ اس نے احمدیت کے لئے اتنی وسیع بیس مہیا کی ہے۔ پتہ لگتا ہے کہ وہ سارے ہندوستان کو ایک اسٹیج پر جمع کرنا چاہتا ہے اور سب کے گلے میں احمدیت کا جوا ڈالنا چاہتا ہے۔ اس کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اٹھ جائے اور ساری قومیں شیروشکر ہوکر رہیں۔ تا ملک کے حصے بخرے نہ