نہ سمجھایا حضرت نے ہے کون دجال
بتایا نہ یاجوج و ماجوج کا حال
چلے گا زمیں کا وہ کیا جانور چال؟
نہ واضح کیا یہ رہا اس میں اجمال
غرض آج تک تھے یہ الفاظ مجمل
حقیقت کھلی ان کی مجھ پر مفصل
صحابی جو تھے ابن مسعود ذیشاںبتایا انہیں ایک معمولی انساں
کشادہ بنایا تھا ایسا گریباں
کہ رکھتا تھا وہ سوحسین اس میں پنہاں
غبی اس کے نزدیک تھے بوہریرہ
ہے جن کی روایت کا دنیا میں شہرہ
سنو اس سے بھی طرفہ تر ماجرا تم
کہ سننے سے جس کے ہو عقل وخرد گم
مچایا تھا دنیا میں جس نے تلاطم
ہلا تھا جہاں جس سے تاچرخ ہفتم
جو کچھ بھید کھلنے سے باقی رہا تھا
وہ اس واقعہ نے عیاں کر دیا تھا
کہا پیدا ہو گا میرے ایک فرزند
جو ہوگا ذہین و ذکی و خرد مند
ولادت سے اس کی جہاں ہوگا خورسند
کرے گا وہ رنج ومصیبت کے دربند
بشیر عنموائیل ہے نام اس کا
بہت ہوگا دنیا میں اکرام اس کا
وہ ہے پیاری اور موہنی شکل والا
کہ ہے نور کے گویا سانچے میں ڈھالا
وہ اوصاف میں اپنے ہو گا نرالا
زمانہ میں پھیلے گا اس سے اجالا
بہت جلد نشو و نما پائے گا وہ
عجیب شان دنیا کا دکھلائے گا وہ
زمیں کے کناروں میں مشہور ہوگاجہاں فیض سے اس کے معمور ہوگا
وہ سب ظلمتوں کے لئے نور ہوگا
وہ علم اور حکمت سے بھرپور ہوگا
اسے دیکھ کر بول اٹھو گے زباں سے
کہ گویا ہے اترا خدا آسماں سے
فیوض اس کے ہر چار سمت ہوں گے جاری
کٹھن مشکلیں ہوں گی آسان ساری
اسیروں کو مل جائے گی رستگاری
کرے گا غریبوں کی وہ دستیاری
وہ باعظمت و شوکت و جاہ ہو گا
وہ شاہان عالم کا بھی شاہ ہوگا
ہوا جب وہ مولود موعود پیدا
مریدوں کو مرزا نے مژدہ سنایا
روانہ کئے تار وخط اس نے ہر جا
کیا آن کی آن میں خوب چرچا
کیا تھا بڑی دھوم سے پر عقیقہ
نہ رکھا تکلف میں باقی دقیقہ
مگر ایسی لڑکے نے کی بے وفائی
دیا جلد مرزا کو داغ جدائی