گہن نام رکھا ہے شق القمر کا
گھٹاتا ہے رتبہ یہ خیر البشر کا
کہا یہ کہ اس کے لئے کیا ہوا تھا؟
فقط چاند ہی کو گہن لگ گیا تھا
مگر مجھ پہ دو چند ہے فضل رب کا
ہوئے دو گہن چاند و سورج کے پیدا
نبوت کا میری ہوا صاف اظہار
کیا اب بھی باقی تمہیں عذر و انکار؟
ہوئی تھی جو معراج حضرت کو اک شبمعۂ جسم اطہر گئے تھے سوئے رب
ملا تھا نہ پہلے کسی کو جو منصب
تھے اس کے لئے آپ اولیٰ و انسب
احادیث و قرآں میں یہ سب عیاں ہے
ہر اک واقعہ کا مفصل بیاں ہے
مگر بکتا ہے مرزا بد طبیعت
شب و روز اس پر خدا کی ہو لعنت
تھی معراج کیا کشف تھا درحقیقت
ہوئے ہیں مجھے کشف ایسے بکثرت
میں اس کشف میں صاحب تجربہ ہوں
یہ ہے آپ بیتی جو میں کہہ رہا ہوں
ہے اﷲ کی مجھ پر ہر دم عنایت
نوازش کی اس کی نہیں حدو غایت
اترتی ہے وحی اس کی ہر ایک ساعت
نہیں ہے احادیث کی مجھ کو حاجت
میں بے مثل و زندہ سے لیتا ہوں امداد
روایت سے مردوں کی تم سب ہو دلشاد
جو آتی ہے وحی خدا مجھ پہ ہرآں
وہ ہے مثل توریت وانجیل و قرآں
یقیں ہے مرا اس پہ اور ہے یہ ایماں
کہ اصلاً نہیں کذب کا اس میں امکاں
ہے ترک احادیث آساں و لیکن
یقیں کو میں چھوڑوں نہیں ہے یہ ممکن
احادیث کا ہے جو موجود انبارہے دراصل کذب وبناوٹ کا طومار
رطب اور یا بس کی ہے اس میں بھرمار
سمجھتا ہوں میں اس ذخیرے کو بیکار
ہو بیواسطہ مجھ پہ جب حق کا الہام
تو جھوٹی حدیثوں سے کیا پھر مجھے کام؟
میں آیا ہوں بن کر حکم اور مامور
نہیں ہوں حدیثوں کے لینے پہ مجبور
خصوصاً جو ہو مدعا سے مرے دور
کسی طرح مجھ کو نہیں ہے وہ منظور
حدیثوں کے لینے میں مختار ہوں میں
جسے چاہوں پھینکوں جسے چاہوں لوں میں
دکھائی پھر اس نے یہ اپنی سفاہت
غلام ہو کے آقا پے دی یوں فضیلت
کہ جن جھگڑوں کی ہے سچی روایت
صحابہ نے بھی دی ہو ان کی شہادت
حدیثوں میں وہ صرف سی صدعیاں ہیں
ولیکن مرے پاس سہ لکھ نشان ہیں