درخشاں ستارے ہیں شمس وقمر میں
یہ سب میرے ہی نور سے جلوہ گر ہیں
اگر میں نہ ہوتا خدائی نہ ہوتی
خدا کی یہ جادہ نمائی نہ ہوتی
مری ذات پر امر کن کا کھلا راز
مجھی سے ہے ہر شے کا انجام و آغاز
خدا کی میں ہر آن سنتا ہوں آواز
ہے مرے سے ہر کام کا ساز و پرداز
ارادہ مرا ہے خدا کا ارادہ
ہے سب علم میں میرے کم اور زیادہ
خدا نے مجھے بیٹا کہہ کر پکارابرابر کا ساجھی پھر اپنا بنایا
یقین جان اس میں نہیں شک ہے اصلاً
جو منکر ہے میرا وہ منکر خدا کا
خدا بھی ہوں میں اور ابن خدا بھی
ہمیشہ ہوں پیوستہ اس سے جدا بھی
کہا اس نے اک دن ہوا مجھ پر الہام
خدا کی طرف سے کہ اے نیک انجام
مبارک ہو تجھ کو ہمارا یہ پیغام
تو ہے مجھ سے میں تجھ سے پاتا ہوں آرام
احد اور صمد میں ہوں توحید تو ہے
میں فرد و یگانہ ہوں تفرید تو ہے
بڑھی اس کی آخر یہاں تک دلیری
کہی بات وہ جو نہ ہم نے سنی تھی
ہے ہر شے تو تسبیح کرتی خدا کی
خدا عرش پر حمد کرتا ہے میری
جہاں کے لئے میں سراپا ہوں رحمت
تمام انبیاء نے دی میری بشارت
جو القاب خیر الوریٰ کے تھے شایاں
کئے اسنے سب ذات پر اپنی چسپاں
نہ پاس ادب تھا نہ کچھ پاس ایمان
یہ طالب تھا شہرت کا اور بندۂ نان
بکے سخت الفاظ حضرت کی شاں میں
نہ گستاخ ایسا ہوا ہے جہاں میں
کہا کافروں نے رسول خدا سےکہ دعویٰ میں اپنے اگر تم ہو سچے
دکھاؤ ہمیں چاند کے ٹکڑے کر کے
تو ہم تابع ہو جائیں گے سب تمہارے
تمہاری رسالت کا یہ امتحان ہے
نہیں اس میں گنجائش ایں و آں ہے
کیا انگلی کا جب نبی نے اشارہ
طرف چاند کے ہوگیا وہ دو پارہ
جو قدر خدا کی ہوئی آشکارا
تو کفار نے اس کو جادو بتایا
اسی معجزے کا ہے شق القمر نام
جسے دل سے ہیں مانتے اہل اسلام
سنو اب کہ مرزا کی بکواس کیا ہے؟
کھلے معجزے کو وہ کیا لکھ رہا ہے؟
گہن تھا نہیں چاند ہر گز پھٹا ہے
قصیدہ میں یہ صاف بتلا دیا ہے