امام زمان ومسیحائے موعود
مجدد صدی کا وہ مہدی مسعود
تھا ملعون دنیا کا عقبیٰ کا مردود
غرض سارے اوصاف تھے اس میں موجود
کہوں کیا میں تم سے کہ کیا کیا بنا وہ
تھا بندہ خدا کا خدا بن گیا وہ
کبھی ابن مریم سے خود کو بڑھایا
کبھی سارے نبیوں سے افضل بتایا
عجب خبط تھا اس کے دل میں سمایا
سماں جیسا دیکھا وہی راگ گایا
نیا رخ ہمیشہ بدلتا رہا وہ
نئی سے نئی چال چلتا رہا وہ
بچھایا عجب مکر کا جال اس نےکیا دین احمد کو پامال اس نے
کی تجدید دعویٰ کی ہر سال اس نے
بنایا برا قوم کا حال اس نے
نہ تھا خوف عقبیٰ کے سود و زیاد کا
فقط دہن تھی یہ ہو نبی قادیان کا
لکھا کہ تھے عیسیٰ کے ناپاک اطوار
تھی ماں اور نانی بھی اس کی زناکار
شرارت میں مرزا سے شیطاں گیا ہار
مگر یہ نہ ہرگز ہوا اس سے بیزار
نبی پر یہ تہمت غضب ہے خدا کا
مزہ خوب چکھے گا اس کی سزا کا
بڑا بے ادب ہے بہت بے حیا ہے
ہر ایک بات اس کی سلف سے جدا ہے
بھلا ایسی جرأت کی کیا انتہاء ہے؟
حقیقت میں یہ صاف دعویٰ کیا ہے
کہ جو جام ہر اک نبی کو ملا تھا
خدا نے وہ پورا مجھے دے دیا تھا
کہا جتنے گذرے ہیں پیر وپیمبر
امام و ولی پیشوا اور رہبر
ہوئے گدلے ان سب کے پانی سراسر
کبھی میرا چشمہ نہ ہو گا مکدر
مجدد نبی برگزیدہ ہوں مرسل
بنایا خدا نے مجھے سب سے افضل
مرا رتبہ ہے سب سے بالا وبرترمیں ہوں سارے نبیوں کا سالار و افسر
کئی تخت اترے سما سے زمیں پر
مرا تخت لیکن بچھا سب سے اوپر
میں ختم الرسل اشرف الانبیاء ہوں
مرے نور سے سب میں نور خدا ہوں
میں ہوں باعث خلق وایجاد عالم
بدولت مرے ہوئی تخلیق آدم
جہاں میں جو موجود ہے خشک اور نم
زمیں آسمان اور عرش معظم
مرے ہی سبب سے یہ پیدا ہوئے ہیں
مکین و مکاں سب ہویدا ہوئے ہیں
یہ دنیا میں جتنے شجر اور حجر ہیں
گل و خار جو کچھ کہ پیش نظر ہیں