بسم اﷲ الرحمن الرحیم!
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!
عقائد قادیانی منظوم
ہوا کیسی بے رخ خدایا چلی ہے
کہ پژمردہ ہر اک چمن کی کلی ہے
یہ ہر سمت کیسی پڑی کھلبلی ہے
کہ ہر فرد کو قوم کے بیکلی ہے
نہ ہے چین دن کو نہ شب کو ہے آرام
پریشان رہتے ہیں اب اہل اسلام
ہدایت نے دنیا سے باندھا ہے بسترکھلے جابجا ہیں ضلالت کے دفتر
بنایا ہے اب اہل مطلب کو لیڈر
جو ہیں راہزن ان کو سمجھا ہے رہبر
قیامت کے سارے کھلے ہیں یہ آثار
ہے اب اہل اسلام کو جینا دشوار
عقائد میں پھیلی ہوئی ابتری ہے
کوئی اہل قرآں کوئی نیچری ہے
سلف سے انہیں دعویٰ ہمسری ہے
نئی بات کہنے میں ہر اک جری ہے
نہ کچھ حق وباطل کا معیار ہے اب
ہر اک اپنے مذہب کا مختار ہے اب
مٹی شرم وغیرت ہوا دین برباد
جسے دیکھئے ہے وہ مذہب سے آزاد
خودی کا سبق ایسا ازبر کیا یاد
کہ بن بیٹھے ہیں آپ ہی اپنے استاد
سمائی دماغوں میں ماؤمنی ہے
زمانہ میں پھیلی نئی روشنی ہے
ہوا ان کے نزدیک قرآن بیکار
پرانی ہوئیں سب احادیث واخبار
ہے فتنہ کا اب ہر طرف گرم بازار
نئے دین کے سب ہوئے ہیں خریدار
یہی ہے تمنا یہی آرزو ہے
نئے دین کی رات دن جستجو ہے
ہے ایک فرقہ پنجاب میں قادیانیسنو اب ذرا مجھ سے اس کی کہانی
ہے مرزاقادیانی اس جماعت کا بانی
ضلالت میں جس کا نہیں کوئی ثانی
رکھا کفر کا نام اسلام اس نے
کیا قوم کو خوب بدنام اس نے
مشیخت سے پہلے مجدد بنا وہ
کچھ ایام گذرے تو مہدی ہوا وہ
مسیحا پھر اپنے کو کہنے لگا وہ
غرض جو چلا چال انوکھی چلا وہ
نیا دین تھا اس کا مذہب جدید تھا
نہ تھی شرم اس کو نہ خوف خدا تھا