پیدا کی۔ مرزاقادیانی کے ان اقوال اور متضاد عمل کو دیکھ کر مجبوراً کہنا پڑتا ہے۔
کوئی بھی کام مسیحا تیرا پورا نہ ہوا
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
مرزاغلام احمد قادیانی نے مسلمانوں سے الگ ہونے کے لئے جس قسم کے زہریلے اور دل آزار وتوہین آمیز الفاظ استعمال کئے اور دعوے نبوت کر کے مسلمانوں میں انتشار وتفریق کی گہری خلیج حائل کر کے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر اور ان کے عقائد اور اعمال سے نفرت دلا کر چند آدمیوں کو اپنے ساتھ ملایا اور ختم نبوت کی مقدس مہر کو توڑ کر ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو موقعہ دیا کہ وہ تاج رسالت سے بغاوت کرے اور ناموس رسالت پر حملہ کرے۔ اپنی نبوت کی دوکان چمکائے اور رسول اﷲ کے مقدس دین میں نقائص نکالنے کی کوشش کرے اور اپنے آپ کو رسول اور اپنے مریدوں کو متقی اور صالح قرار دے۔ کاش ایسے دین کے باغی لوگوں کے لئے کوئی قانون بنایا جاتا جو ایسے کاذب اور دجل کرنے والوں کو گرفت کر سکتا۔ ملاحظہ ہو: کیسے کیسے نامعقول لوگوں نے دعویٰ نبوت کرنے کی جرأت کی۔
یار محمد نبی
’’ایک میرے استاد تھے جو اسکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان کا نام مولوی یار محمد تھا۔ انہیں حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) سے اتنی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں اس پر جنون کا رنگ غالب آگیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو۔ مگر ہم نے یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہوگیا اور وہ حضرت مسیح موعود کی ہر پیش گوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔‘‘
(ارشاد خلیفہ محمود احمد قادیانی، الفضل قادیان مورخہ یکم؍جنوری ۱۹۳۴ئ)
احمد نور کابلی نبی
’’سید احمد نور کابلی، ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار آدمی ہیں۔ پس ان کا کام ہماری طرف کس طرح منسوب کیا جاسکتا ہے۔‘‘
(ارشاد خلیفہ قادیانی، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۸ ص۱۷، مورخہ ۱۱؍نومبر ۱۹۳۴ئ)
ناظرین! اندازہ لگائیں کہ یار محمد اور احمد نور کابلی مدعیان نبوت ہیں اور فرقہ احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میاں محمود احمد قادیانی ان کے دعویٰ نبوت کی تردید بنا بریں کرتے ہیں کہ بیماریا جنون میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا نبی نہیں ہوسکتے۔ مگر خود اپنے والد مرزاغلام احمد قادیانی کی تمام بیماریوں پر