ہے۔ اپنی گذری ہوئی خوش فہمیوں سے توبہ کر کے اسلام کے حلقہ کو مضبوط پکڑ لو اور اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی ارتداد کے اس جال سے نکالنے کی کوشش کرو۔ ’’وآخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین‘‘ رشید احمد عفا اﷲ عنہ وعافاہ!
۲۳؍ربیع الاوّل ۱۳۹۶ھ، مطابق ۲۵؍مارچ ۱۹۷۶ء
زبردست شہادت
کتاب ’’بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا‘‘ کی کتابت مکمل ہوچکی تھی۔ اس کے بعد زاہد صدیقی صاحب سابق مبلغ دیندار انجمن کی کتاب ’’ہندو اوتار‘‘ کے آخر میں ایک زبردست شہادت نظر سے گذری جو درج ذیل ہے۔ (مؤلف)
’’۱۷؍مارچ ۱۹۵۷ء کی صبح کو مجھے ایک لفافہ ملا۔ ’’بے نقاب‘‘ اور ’’یک نہ شد دو شد‘‘ پڑھ کر حیدرآباد دکن کے ایک سابق پولیس آفسر نے ’’انجمن دینداران کا مسلک‘‘ کے عنوان کے تحت چند نہایت اہم رازوں کا انکشاف کیا ہے۔
صاحب موصوف کے مراسلہ کے مندرجہ ذیل اشارے نہایت اہم اور قابل غور ہیں۔
۱… صدیق دیندار چن بسویشور مدارس کے ایک سابق شیعہ خاندان کے فرد، میسور کے متوطن حیدرآباد کی ریاستی پولیس میں ملازم ہوئے۔ ہیڈ کانسٹیبل ہونے کے بعد کسی جرم کی پاداش میں برطرف کر دئیے گئے۔ دوران ملازمت میں ان کا قیام گلبرگہ شریف (دکن) میں رہا۔ اس کے بعد گذر اوقات کی خاطر پیری مریدی شروع کی اور محلہ آصف نگر حیدرآباد (دکن) میں سکونت پذیر ہوئے۔ لنگایت ہندو فرقے کے اوتار کا ڈھونگ رچایا۔ بھگوت گیتا، رامائن ار مہابھارت کو الہامی کتابیں ثابت کرنے پر سارا زور صرف کیا۔ مذاہب عالم کانفرنس کے رنگ میں ہر سال اپنے مکان پر جلسے کیا کرتے۔ جہاں قادیانی عقائد کا پرچار ہوتا اور ہر مذہبی مسئلہ کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا۔
۲… صدیق دیندارچن بسویشور صاحب نے کچھ دن بعد اپنے آپ کو ’’خاتم النبیین‘‘ کہنا شروع کر دیا اور میں نے یہ بھی سنا کہ وہ اپنی پیٹھ پر کوئی نشان بتلا کر اسے ’’مہر نبوت‘‘ کہتے ہیں۔ ان کے فرقے سے تعلق نہ رکھنے والے صحیح العقیدہ مسلمانوں کو انہوں نے قادیان کے ارباب نبوت کی اتباع میں کافر گردانا۔ ان میں تفرقے ڈالنے کی خاطر سازشیں کیں۔ اپنے مریدین کے ذریعہ ان کو لوٹا۔