افزائش نسل اور لونڈیوں کے جواز کے تحت ہر کمزور مخالف کی عورتوں اور لڑکیوں کی عصمت دری کی، بدنام نہاد دینداری اور فقیرانہ لباس کی آڑ میں عیش پرستی کو جاری رکھا۔
مخالفین کے ساتھ اس قسم کی انسانیت سوز وخلاف تہذیب حرکات کا نام ’’غزوات اور جہاد فی سبیل اﷲ‘‘ رکھا گیا۔ ۳… تقسیم ہند اور آزادی ریاست حیدرآباد کے بعد ان کی تباہ کاریوں وسیاہ کاریاں لا محدود ہوکر رہ گئیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ وہ ڈاکہ زنی ہے۔ جس میں صدیق چن بسویشور کے مریدوں نے نواح حیدرآباد محلہ بیگم پیٹھ میں ایک ساہو کار کے گھر دن دھاڑے لوٹ مار مچائی اور ایک تجوری جس میں پانچ لاکھ کی نقدی، زیورات وجواہرات تھے۔ لے کر رفوچکر ہوگئے۔
جب ان کی دیدہ دلیری حد سے تجاوز کر گئی تو انہوں نے ریاست کے ملحقہ علاقوں میں لوٹ مار شروع کر دی۔ اس سے اس قدر دھوکہ ہوتا کہ غیرمسلم ان کو رضاکاران اتحاد المسلمین سمجھ کر اخبارات میں اسٹیٹ مسلم لیگ کے خلاف زہر افشانی کرتے۔
۴… قاسم رضوی صاحب کے دور سے قبل ہی حکومت وقت نے ان کو نظر بند کر رکھا تھا۔ کیونکہ ان کی فتنہ سامانی سب پر روز روشن کی طرح عیاں تھی۔ ان کی زبان بندی کے احکامات مدتوں سے جاری تھے۔ سقوط حیدرآباد کے بعد ان کے مریدین روپوش ہوگئے۔ انہوں نے لباس تک چھوڑ دیا اور آخرکار بھاگ بھاگ کر پاکستان آرہے ہیں۔
ایک ریاست کو تباہ کر کے اب انہوں نے دوسری سلطنت کو تاکا ہے۔ اﷲتعالیٰ سب کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ پولیس افسر کے خط کے اقتباسات نقل کرنے کے بعد زاہد صدیقی صاحب لکھتے ہیں: ’’صاحب موصوف کے مراسلے کا آخری جملہ ارباب حکومت کے لئے زبردست آگاہی وانتباہ ہے۔ میں پھر عرض کروں گا کہ حیدرآباد دکن کے ذمہ دار مہاجرین سے دیندار انجمن اور اس کی ہلاکت آفرینیوں کا ریکارڈ حکومت ضرور طلب کرے۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری حکومت خارجی فتنوں کے کچلنے میں لگی ہو اور یہ اندرون ملک شورش برپا کر دیں۔‘‘
وما علینا الا البلاغ
رشید احمد عفا اﷲ عنہ وعافاہ
۱۹؍جمادی الثانیہ ۱۳۹۶ھ