رہیں۔ جن کے نتائج نہ ان کو دنیا کا نفع دے سکتے ہیں۔ نہ دین کا۔‘‘
(اخبار الفضل مورخہ ۸؍جنوری ۱۹۱۶ئ)
قائداعظم کی مخالفت
’’کیا مسٹر جناح ساری دنیا کے مسلمانوں کے نگران ہوسکتے ہیں اور کیا مسٹر جناح اسلامی دنیا کے تمام نقائص اور خرابیوں کو دور کر سکتے ہیں۔ کیا مسٹر جناح یا کوئی مسلمان نمائندہ آج پھر ایمان کو پہلی حالت میں قائم کر سکتا ہے۔ جو کہ حالت قرون اولیٰ کی تھی۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۸، مورخہ یکم؍مارچ ۱۹۴۰ئ)
ساری دنیا دشمن ہے
’’ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ بعض لوگ جب ان کو ہم سے مطلب ہوتا ہے تو ہمیں شاباش کہتے ہیں۔ جس سے بعض احمدی خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں۔ حالانکہ جب تک ایک شخص خواہ وہ ہم سے کتنی ہمدردی رکھنے والا ہو۔ پورے طور پر احمدی نہیں ہو جاتا۔ ہمارا دشمن ہے۔‘‘ (تقریر مرزامحمود احمد قادیانی مورخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۳۰ئ)
بڑا آدمی
’’لوگ اخباروں میں مضامین دیا کرتے ہیں کہ اس زمانے کا سب سے بڑا آدمی کون ہے۔ کوئی گاندھی جی کا نام لیتا ہے۔ کوئی اتاترک کا، کوئی مسولینی اور ہٹلر کا، مگر حقیقت میں بڑا وہ ہے جس پر خدا کا فضل سب سے بڑھ کر ہو اور وہ اﷲ کے رسول کا جانشین حضرت فضل عمر مرزابشیر الدین احمد (خلیفہ قادیان) ہے۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان ج۲۶ نمبر۲۸۱ ص۳، مورخہ ۷؍دسمبر ۱۹۳۸ئ)
نیا کلمہ کیوں جاری نہ کیا
’’ہم پہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کے بعد مرزاقادیانی ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر حضرت مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ (یہ تناسخ کا عقیدہ نہیں تو اور کیا ہے) پس جب بروزی رنگ میں مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اﷲ ہی ہیں جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘
’’ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اﷲ کی جگہ اور کوئی آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘ (کلمتہ الفصل ص۱۵۷،۱۵۸، مصنفہ مرزابشیر احمد قادیانی)