خمار اس کیفیت کو کہتے ہیں جو نشہ شراب کے زائل ہونے کے بعد رہ جائے اور خمار کے مقابل ہو بھی لفظ مست ہی سکتا تھا۔ مگر مرزاقادیانی کو اتنا ذوق سلیم کب عطاء ہوا کہ وہ از خود اس عیاں سی ادبی رمز اپنے آپ پا جاتے۔
مرزاقادیانی کا اس شعر سے اپنے حق میں استدلال کرنا بہت ہی مضحکہ انگیز ہے۔ اس اسلامی سلطنت کی خیرخواہی دل میں رکھتے ہوئے مرزاقادیانی یوں لکھتے ہیں: ’’اس جگہ منشی محمد جعفر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ شعر یعنی ترک عیار گویا اس عاجز کی تکذیب کی نسبت پیش گوئی ہے۔ (محمد جعفر صاحب نے بھی اس خیال سے کہا ہوگا کہ مرزاقادیانی کو ترک کہہ کر سست وعیار تو کہہ لو) لیکن ایک عقلمند جو انصاف وتدبیر سے کچھ حصہ رکھتا ہے۔ وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ شعر اس قصیدہ کے مضامین کا ایک آخری مضمون ہے اور قصیدہ کی ترتیب سے ببداہت معلوم ہوتا ہے کہ اوّل مسیح موعود کا ظہور ہوا اور پھر اس کے بعد کوئی اور واقعہ پیش آوے جو ترک عیار سست نظر آوے اور اس کا دشمن خمار میں دکھلائی دے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں بجز اس عاجز کے کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ یا اس کے دعویٰ کے بعد ایک ناقص الفہم اس عاجز کو ترک قرار دے۔ پس اس شعر کے صحیح معنی یہ ہیں کہ اس مسیح کے ظہور کے بعد ترکی سلطنت کچھ سست ہو جائے گی۔‘‘
کیوں وہ زینت شرع ورونق اسلام کدھر جائے گی۔ پائے محمدیان برمنار بلند تر محکم افتاد۔ کدھر جائے گا وہ صرف اسی لئے ہے کہ براہین احمدیہ میں حوالہ کے لئے لکھا جائے اور سلطنت کا مخالف بھی یعنی روس (مرزاقادیانی کا تمام مکاشفہ اور الہام تمام عمر صرف یہی دریافت کر سکا کہ ترکوں کا صرف ایک روس ہی دشمن ہے) فتح یابی کا کچھ اچھا پھل نہیں دیکھے گا اور آخر کار فتح کا سرور جاتا رہے گا اور خمار رہ جائے گا… اور حدیثوں کے رو سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے وقت ترکی سلطنت کچھ ضعیف ہو جائے گی (کیا مرزاقادیانی کے مریدین معتقدین نے کبھی ان سے دریافت کیا کہ یہ حدیثیں کہاں ہیں اور کیا ترکی سلطنت کو مہدی کے ظہور ہوئے بعد ضعیف ہونا چاہئے تھا۔ یا اس سے پہلے ضعف کا زمانہ کاٹ چکنا چاہئے تھا)
یہ ہیں خیالات مرزاقادیانی کے اپنے ظہور کے وقت غریب ترکوں کے متعلق۔ کاش اس وقت مرزاقادیانی دنیا میں موجود ہوتے۔ ہم انہیں بتادیتے کہ حضرت شعر کو صحیح یوں پڑھئے۔
ترک عیار مست مے نگرم
خصم او درخمارمے بینم