اور اب اس کے معنی کیجئے اور اپنے پر چسپاں کیجئے۔ مگر مرزاقادیانی سچے تھے۔ ترک تو مست اصلی مہدی کے ظہور کے بعد ہوںگے۔ مرزاقادیانی کوئی مہدی تھوڑے تھے۔ یہاں تک لکھ کر ہم بطور نتیجہ کوئی بات نہیں کہتے۔ ارباب علم ودانش خود سمجھ لیں۔ ان کے مرید اپنے ضمیروں سے پوچھیں۔ رہ حق اب بھی دور نہیں۔ ایک تو یہ پچھلی تمام لغزشوں کی تلافی ہے۔ شکست توبہ پر بھی توبہ ہوسکتی ہے ؎
ایں درگہ مادرگہ نومیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
انتظار امام
امام موعود کا تمام اسلامی دنیا کو اس اضطراب سے انتظار ہے کہ راتوں کو نیندیں نہیں آتیں۔ وہ روز کب دیکھنا نصیب ہوگا کہ تمام دنیا اپنے کمال ترقی پر پہنچی ہوئی دکھاوے۔ بجز توحید کسی دوسرے معبود کا نام نہ ہو۔ ہر جگہ اور ہر زبان پر ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کے نعرے ہوں۔ عدل ومساوات، حریت واخوت کے ترانوں سے گلشن عالم معمور ہو۔ انسان اپنے آپ کو کامل انسان پائیں۔ نسل ووطن کی تمیزیں دلوں سے محو ہو جائے۔ آہ! یہ زمانہ کیسا آگیا۔ یہ عروج ہمیںکب دیکھنا نصیب ہوگا۔ یا رب ہمیں یا تو اتنی لمبی عمر دے کہ ہم اس رحمتہ اللعالمین نائب کا زمانہ دیکھیں۔ یا ہم پر رحم فرما اور اسے ابھی بھیج۔ اگر یہ وقت اس کے ظہور کا نہیں تو اور کون سا ہوگا۔
روز میدانست ترک شاہسوار من کجاست
چشم ہر کس بر رخ یارے سست یاد من کجاست
دریغ عمر کہ درانتظارمے گذرد
خدائے داندو من تاچہ زارمے گذرد
چرانہ نالم از اندوہ در فراق غمش
کہ بے وصال مرا روزگارمے گذرد
بیا بیا کہ نسیم بہارمے گذرد
بیاکہ گل زرخت شرمسارمے گذرد
بیاکہ فصل بہار است وموسم شادی
مدار منتظرم روز گارمے گذرد