سے قبل ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولپور نے بھی اپنے ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کے فیصلہ میں انہیں مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے چکے تھے۔ یہ عدالتی فیصلے مسلمانوں کے عوامی مطالبوں کا جواب تو نہ تھے۔ لیکن مسلمانوں اور قادیانیوں کے تعلقات میں سنگ میل کی حیثیت ضرور رکھتے تھے۔ بلکہ قادیانیوں کے بزرجمہر قانون دانوں کو بھی ان فیصلوں کو چیلنج کرنے کی جرأت نہ پڑی۔
چار سال بعد ۲۸؍اپریل ۱۹۷۳ء کو آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی مندرجہ ذیل قرار داد منظور کر لی۔
۱…’’قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ریاست میں مقیم تمام قادیانیوں کی رجسٹریشن کرنے کے بعد مختلف محکموں میں ان کی نمائندگی کا تناسب مقرر کیا جائے۔‘‘
۲…
’’آزاد کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ ممنوع قرار دی جائے۔‘‘
اس قرارداد کی منظوری یقینا صراط مستقیم کی طرف ایک صحیح قدم تھا۔ اسی لئے تمام مسلم دنیا میں اسے بنظر استحسان دیکھا گیا۔ پاکستان کے مقتدر مذہبی وسیاسی رہنماؤں نے بھی حکومت کی توجہ اس اہم فریضہ کی طرف دلائی اور ایسی ہی کاروائی کا مطالبہ کیا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد قادیانیوں نے ایک اور گل کھلایا۔ جس نے اس مطالبہ کے حصول کے لئے مہمیز کا کام دیا۔ اس فرقہ ضالہ نے بلوچستان میں قرآن حکیم کے ایسے نسخے جن کی آیات میں لفظی تحریف کی گئی تھی۔ تقسیم کر کے مسلمانوں کی حمیت کو للکارا۔ اس سے از سر نو فسادات کی راہ کھل گئی۔ نتیجہ کے طور پر ایک دو حادثات بھی وقوع پذیر ہوئے۔ گورنمنٹ کی فوری مداخلت سے حالات قابو میں آگئے۔ بظاہر معاملہ ختم ہوگیا تھا۔ لیکن اس راکھ میں چنگاریاں دبی ہوئی تھیں۔ جو کسی وقت بھی شعلہ بن سکتی تھیں۔ ادھر قادیانی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ لہٰذا ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طالب علموں کو پشاور کی سیر سے واپسی پر قادیانیوں کے بے قابو ہجوم نے ربوہ اسٹیشن پر بری طرح زدوکوب کیا۔ خون میں لت پت زخمی طالب علم لائل پور پہنچے تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے ملک میں پھیل گئی۔ گورنمنٹ نے تحقیقات کے لئے مسٹر جسٹس کے ایم اے صمدانی کی سربراہی میں عدالتی تربیونل مقرر کیا۔ ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بے مثال قسم کی ایجی ٹیشن شروع ہوگئی۔ لوگوں کے جان ومال کو بے شمار نقصان پہنچا۔ پندرہ جون ۱۹۷۴ء کو ملک گیر اور ایک مکمل بے نظیر ہڑتال کی گئی۔ تحریک ختم نبوت نے ایجی ٹیشن کو پر امن طریق سے جاری رکھنے کے لئے مجلس عمل کو تشکیل کیا۔ ساری قوم نے متفقہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
۱…
قادیانیوں کو اقلیت کا درجہ دیا جائے۔