ناجائز بلکہ اس مطالبہ کی صدائے بازگشت تھی جو سالہا سال پیشتر سے ہوتا چلا آرہا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے کئی سال پیشتر مرزائی سرپرست کافر حکومت کو یہی مشورہ دیا تھا۔ ’’میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہوگاکہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا۔ جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملے میں اختیار کرتا ہے۔‘‘ (حرف اقبال ص۱۲۸،۱۲۹)
اب تک قادیانیوں کی اندرونی پخت وپز بے نقاب ہوچکی تھی۔ یہ بھی اظہر من الشمس تھا کہ یہ طائفہ مسلمانوں کا مذہبی فرقہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی تنظیم ہے۔ ایک سیاسی سازشی تحریک ہے جو استعماریت کی آلۂ کار ہے۔ جس کا نصب العین ملت اسلامیہ کے اتحاد کو پاش پاش کرنا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ یہ فرقہ ضالہ امت محمدیہ کے خلاف عالمی استعمار کی سازشوں کا مہرہ بنارہا۔ لیکن سابقہ حکومتیں رحیم وکریم بن کر نہایت دریا دلی سے ان کے قبیح جرائم سے چشم پوشی کرتی رہیں اور مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کو بے اعتنائی وبے التفاقی کی نذر کرتی رہیں۔
بہرحال مارشل لاء کی چیرہ دستیوں اور ستم ظریفیوں نے فسادات کے شعلوں کو وقتی طور پر تو مدھم کر دیا۔ لیکن فدایان رسالت مآبﷺ کی قربانیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام مسلمان اس فتنے کی سنگینی کو محسوس کرنے لگے۔ قادیانیوں پر خاص نظر رکھی جانے لگی۔ آخر دو سال بعد ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرکٹ سیشن جج راولپنڈی نے تاریخ فیصلہ صادر فرمایا کہ: ’’قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
اگرچہ اس قسم کا فیصلہ قانونی لحاظ سے نیانہ تھا۔ لیکن یہ اس لئے خاص اہمیت کا حامل تھا کہ اخباروں میں اس کی اشاعت وتشہیر سے قادیانی مسئلہ از سر نو زندہ ہوگیا۔
بعد ازاں گاہے گاہے قادیانیوں کے خلاف ادھر ادھر کے سیاسی ومذہببی پلیٹ فارم سے اکا دکا احتجاجی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ جو صدا بصحرا ثابت ہوتی ہوئی خامشی سے دم توڑتی رہیں۔ ان کی شنوائی کرنے والا کوئی ہمنوا نہ ملا۔ حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ہوس پرستوں اور دنیاوی جاہ وجلال پر مر مٹنے والوں میں سے کوئی ایسا صاحب دل نہ نکلا۔ جو محسن انسانیت رسول اکرمﷺ تاجدار عرب وعجم کے ناموس کے تحفظ کے لئے موہوم خدشات کی پرواہ کئے بغیر اپنے اقتدار کو بازی پر لگا کر دنیا وعقبیٰ کی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔
۱۹۶۹ء میں جمیس آباد کی فیملی کورٹ کے سول جج نے بھی اپنے تاریخی فیصلہ میں مرزاغلام احمد قادیانی کے معتقدوں کو غیرمسلم اور مرتد گروہ قرار دے دیا۔ ویسے تو ان دونوں فیصلوں