راہ راست پر لانے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا۔ ان کی ہرزہ سرائی اور ہذیان گوئی پر کوئی قدغن نہ تھی۔ ان کی پروپیگنڈہ مشینری بے لگام تھی۔ لہٰذا انہوں نے نہ صرف اندرون ملک بلکہ چوہدری ظفر اﷲ وزیر امور خارجہ پاکستان کے بیرونی ممالک میں اثرورسوخ سے بھی اسلام کو مسخ کر کے پیش کیا اور کفر وارتداد سے بھرپور عقائد باطلہ کی خوب تشہیر کی۔ نیز ہر طرف سازشوں کے وسیع وعریض دام پھیلا دئیے۔
اسلامی عقائد سے انحراف پر ہی معاملہ ختم نہ ہوا۔ بلکہ حکومت پر قابض ہونے کے گھناؤنے منصوبے کے تحت قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں افواج پاکستان میں بھرتی ہوکر کلیدی آسامیوں پر بھی قبضہ جمالیا۔ یہ بے لگام افسر جدھر کا بھی رخ کرتے احمدیت کا پرچار کرتے۔ اس طرح سرکاری فرائض کی انجام دہی کے علاوہ وہ اپنے مذہب کے مبلغ کی حیثیت سے بھی اپنے عقائد باطلہ ماتحتوں تک پہنچاتے اور انہیں ان عقائد کو اختیار کرنے پر مجبور کرتے۔ جسٹس منیر ایسے ہی معاملات کی چھان بین کے بعد اپنی انکوائری رپورٹ میں رقمطراز ہیں۔
’’احمدی افسروں کی کوششوں سے تبدیلی، مذہب کے واقعات بھی ثابت کئے گئے۔ نیز ان کی رپورٹ ہیڈ کوارٹر میں پہنچائی گئی۔‘‘ (منیر انکوائری رپورٹ ص۱۹۷)
’’وہ اتنے دلیر ہوگئے تھے کہ ۱۹۵۱ء میں کرسمس کے موقع پر صدر انجمن احمدیہ ربوہ نے اپنے پیروکاروں سے پرجوش اپیل کی کہ وہ تبدیلی مذہب کی کاروائیوں کو تیز تر کر دیں۔ تاکہ سب غیراحمدی ۱۹۵۲ء کے اخیر تک احمدیت کی آغوش میں آجائیں۔‘‘ (منیر انکوائری رپورٹ ص۱۹۹،۲۰۰)
اس اشتعال انگیز اپیل سے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور نتیجہ میں تمام ملک وسیع پیمانے پر فسادات کا شکار ہوگیا۔ حالات بے قابو ہوگئے۔ لا اینڈ آرڈر کے مسئلہ نے نازک صورت اختیار کر لی۔ عاشقان رسالت مآبؐ دارورسن کی داستانیں تازہ کر رہے تھے۔ حب رسول میں سرشار غیرت مند وباحمیت مسلمان ہر صعوبت ہر تشدد اور ہر اذیت کو خندہ پیشانی سے جھیل رہے تھے۔ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ جائیدادیں نذر آتش ہوئیں۔ سرکاری مشینری امن بحال کرنے میں ناکام ہو گئی تو وطن عزیز کے بعض حصوں میں مارشل لا کا سیاہ دور مسلط کر دیا گیا۔ مسلمانوں کا متفقہ مطالبہ تھا کہ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ آئینی طور پر اس مسئلہ کے حل ہونے پر مسلمان اور قادیانی اکثریت واقلیت کی حیثیت سے ایک پرامن دور کا آغاز کر سکیں گے۔ یہ مطالبہ نیانہ تھا اور نہ ہی